Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

چُٹنی مہتو کی کہانی
جرائم اور حادثات 🚨

جسے گاؤں نے ’ڈائن‘ کہہ کر مارنے کی کوشش کی، وہی آج سیکڑوں خواتین کی محافظ ہے، چُٹنی مہتو کی دردناک کہانی

By Editor - Rahbar News
August 13, 2026 5 Min Read
0

چُٹنی مہتو کی کہانی

جھارکھنڈ کی چُٹنی مہتو کو کبھی ’ڈائن‘ کہہ کر درخت سے باندھا گیا، مارا پیٹا گیا اور گاؤں کی پنچایت نے مبینہ طور پر انہیں قتل کرنے کا فیصلہ تک کرلیا۔ وہ رات کے اندھیرے میں اپنے بچوں کے ساتھ گاؤں سے فرار ہوگئیں۔ آج وہ پدم شری ایوارڈ یافتہ سماجی کارکن ہیں اور جادو ٹونے کے نام پر خواتین کے خلاف ہونے والے ظلم کے خلاف ایک مضبوط آواز بن چکی ہیں۔

جھارکھنڈ کے سرائیکیلا-کھرسوان ضلع کے بھولادیہ گاؤں سے تعلق رکھنے والی چُٹنی مہتو کی زندگی کبھی عام لوگوں جیسی تھی۔ کم عمری میں شادی ہوئی، گھر بسایا اور کئی سال تک معمول کی زندگی گزرتی رہی۔

پھر ایک معمولی مذاق نے ان کی زندگی کو ایسا موڑ دیا جس کا انہوں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔

ایک مذاق، پھر الزام اور پوری زندگی بدل گئی

چُٹنی مہتو کے مطابق ایک دن ان کے دیور کی چھوٹی بیٹی نے طبیعت خراب ہونے اور قے آنے کی شکایت کی۔

چُٹنی نے مذاق میں کہا کہ “کیا پتا تم ماں بننے والی ہو؟”

لڑکی مسکرا دی، لیکن اس کی بڑی بہن نے فوراً سوال کیا کہ انہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔

کچھ دن بعد جب لڑکی کی طبیعت مزید خراب ہوئی تو معمولی شک نے خطرناک الزام کی شکل اختیار کرلی۔

سسرال والوں نے چُٹنی پر جادوئی طاقت رکھنے کا الزام لگایا اور دیکھتے ہی دیکھتے گاؤں کے لوگوں نے انہیں ڈائن کہنا شروع کردیا۔

درخت سے باندھا، مارا پیٹا اور کپڑے تک پھاڑ دیے

اس الزام کے بعد چُٹنی مہتو کو صرف سماجی مخالفت کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ ان کے مطابق ان پر جسمانی اور ذہنی تشدد بھی کیا گیا۔

کبھی انہیں درخت سے باندھ کر مارا جاتا اور کبھی گاؤں میں گھسیٹا جاتا۔

ان کے کپڑے تک پھاڑ دیے گئے اور انہیں مسلسل یہ احساس دلایا گیا کہ وہ معاشرے کے لیے خطرہ ہیں۔

لیکن حالات اس وقت مزید خوفناک ہوگئے جب ستمبر ۱۹۹۵ء میں گاؤں کی پنچایت میں مبینہ طور پر انہیں قتل کرکے لاش دریا میں پھینکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

آدھی رات کو پچھلے دروازے سے جان بچا کر بھاگیں

چُٹنی مہتو نے بتایا کہ پنچایت میں موجود ایک خیرخواہ نے رات کے وقت انہیں خبردار کیا کہ اب گاؤں میں رہنا محفوظ نہیں۔

گھر میں ان کے شوہر اور چار بچے تھے۔

چُٹنی نے پچھلے دروازے سے نکل کر آدھی رات کو گاؤں چھوڑ دیا اور کشتی کے ذریعے دوسری طرف پہنچ کر اپنے بھائی کے گھر جانے میں کامیاب ہوئیں۔

وہ اپنے تین بچوں کے ساتھ نکلیں، جبکہ ان کے شوہر اور بڑا بیٹا گھر اور مویشیوں کی دیکھ بھال کے لیے وہیں رہ گئے۔

چُٹنی کے لیے یہ فرار صرف گھر چھوڑنا نہیں تھا، بلکہ اپنی جان بچانے کی آخری کوشش تھی۔

آٹھ ماہ تک درخت کے نیچے زندگی گزاری

گاؤں سے نکلنے کے بعد بھی مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔

چُٹنی مہتو اور ان کے بچے تقریباً آٹھ ماہ تک ایک درخت کے نیچے رہنے پر مجبور رہے۔

ان کے بھائی نے انہیں اپنے گھر میں رہنے کی پیشکش کی، لیکن چُٹنی کسی پر بوجھ نہیں بننا چاہتی تھیں۔

انہوں نے اپنے لیے تھوڑی سی زمین مانگی تاکہ خود کھیتی کرسکیں اور اپنے بچوں کی پرورش اپنے دم پر کرسکیں۔

ان کے شوہر بھی کچھ عرصہ ان کے ساتھ رہے، لیکن گاؤں کے لوگوں نے انہیں بھی ڈرایا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کیوں رہتے ہیں۔

آخرکار ان کے شوہر نے انہیں چھوڑ دیا اور دوسری شادی کرلی۔

“اگر میں گاؤں میں رہ جاتی تو آج زندہ نہ ہوتی”

چُٹنی مہتو آج بھی اس واقعے کو یاد کرتی ہیں تو آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا اور ایک معمولی بات کو بنیاد بنا کر انہیں بدنام کیا گیا۔

وہ سمجھتی ہیں کہ اگر وہ اس رات گاؤں سے فرار نہ ہوتیں تو شاید آج زندہ نہ ہوتیں۔

لیکن جس ظلم نے ان کی اپنی زندگی تباہ کردی، انہوں نے اسی ظلم کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا۔

یہی فیصلہ آگے چل کر انہیں جھارکھنڈ میں جادو ٹونے کے نام پر خواتین کے خلاف تشدد کے خلاف ایک نمایاں آواز بنا گیا۔

ایک ادارے نے زندگی بدلنے کا راستہ دکھایا

چُٹنی مہتو کی زندگی میں بڑا موڑ اس وقت آیا جب جھارکھنڈ کی غیر سرکاری تنظیم فری لیگل ایڈ کمیٹی کو ان کی کہانی کا علم ہوا۔

ادارے کے بانی جی ایس جیسوال نے ان کے معاملے کو سامنے لانے اور انصاف کے لیے رہنمائی کرنے میں مدد کی۔

چُٹنی خود بھی ان کی مدد کو اپنی زندگی کا اہم موڑ قرار دیتی ہیں۔

ان کے مطابق جیسوال نے انہیں صرف پیسے نہیں دیے بلکہ صحیح راستہ دکھایا اور ایسا مرکز قائم کرنے میں مدد کی جہاں جادو ٹونے کا الزام لگنے والی خواتین کے بارے میں معلومات جمع کی جاسکیں۔

۱۹۹۶ء سے چُٹنی مہتو ایسی خواتین کی مدد کے کام سے وابستہ ہیں۔

متاثرہ خاتون سے دوسری خواتین کی محافظ تک

جو عورت کبھی اپنے ہی گاؤں میں تنہا کردی گئی تھی، آج دوسری مظلوم خواتین کے لیے سہارا بن چکی ہے۔

وہ جھارکھنڈ کے بیر بنس پنچایت میں قائم بحالی مرکز سے وابستہ ہیں، جہاں جادو ٹونے کا الزام لگنے والی خواتین کو رہنے کی جگہ، مشورہ اور مدد فراہم کی جاتی ہے۔

اسی جدوجہد کی وجہ سے انہیں “جھارکھنڈ کی ٹائیگرس” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

جادو ٹونے کے نام پر قتل کا سلسلہ آج بھی ختم نہیں ہوا

چُٹنی مہتو کی کہانی ماضی کا صرف ایک واقعہ نہیں ہے۔

جھارکھنڈ کے کئی دیہی علاقوں میں آج بھی جادو ٹونے کے الزامات خواتین کے خلاف تشدد کا سبب بنتے ہیں۔

نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۰۱ء سے ۲۰۱۹ء کے درمیان جھارکھنڈ میں کم از کم ۵۷۵ خواتین کو ڈائن قرار دیے جانے کے بعد قتل کیا گیا۔

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ بہت سے واقعات پولیس اور سرکاری ریکارڈ تک پہنچ ہی نہیں پاتے۔

پدم شری سے قومی اعزاز ملا

چُٹنی مہتو کی برسوں کی جدوجہد کو ملک میں اس وقت بڑی پہچان ملی جب انہیں ۲۰۲۱ء میں پدم شری سے نوازا گیا۔

لیکن ان کی سب سے بڑی کامیابی شاید یہ اعزاز نہیں ہے۔

ان کی اصل کامیابی وہ خواتین ہیں جو خوف، بدنامی اور تشدد کا سامنا کرنے کے بعد ان کے مرکز تک پہنچتی ہیں اور وہاں انہیں دوبارہ عزت، تحفظ اور زندگی شروع کرنے کا حوصلہ ملتا ہے۔

چُٹنی مہتو کو کبھی اپنے ہی گاؤں میں ڈائن کہا گیا تھا۔

آج وہی عورت ان خواتین کے لیے امید کی علامت ہے جنہیں معاشرہ جادو ٹونے جیسے بے بنیاد الزامات کی وجہ سے ظلم کا نشانہ بناتا ہے۔

ایک وقت تھا جب چُٹنی مہتو اپنی جان بچانے کے لیے آدھی رات کو گاؤں سے بھاگی تھیں، آج وہ دوسروں کی جان اور عزت بچانے کے لیے کھڑی ہیں۔

اہم نوٹ

یہ مضمون دستیاب رپورٹ، چُٹنی مہتو کے بیان اور رپورٹ میں درج سرکاری اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ کسی فرد یا گاؤں پر الزام کو حتمی عدالتی حقیقت کے طور پر نہیں بلکہ رپورٹ میں بیان کردہ دعوے کے طور پر سمجھا جائے۔

Rahbar News WhatsApp Channel
Share This Article
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
آئی بی پی ایس کلرک دو ہزار چھبیس | تلنگانہ نشستیں اور تفصیلات
Previous

آئی بی پی ایس کلرک دو ہزار چھبیس: تلنگانہ میں ایک سو اکیانوے نشستوں کے ساتھ نیا نوٹیفکیشن جاری

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.