سپریم کورٹ کا بڑا حکم: سی جے پی احتجاج میں شامل مظاہرین کے خلاف سخت کارروائی پر روک، کم عمر افراد کی فوری رہائی کا حکم
نئی دہلی: کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں حالیہ طلبہ احتجاج سے متعلق سپریم کورٹ نے ایک اہم عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن مظاہرین کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے، ان کے خلاف کسی بھی قسم کی سخت یا جبری کارروائی نہ کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے اٹھارہ سال سے کم عمر تمام بچوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں قائم تین رکنی بنچ نے سماعت کے دوران واضح کیا کہ عدالت کی جانب سے دیا گیا تحفظ صرف انہی افراد کے لیے ہوگا جن کا کوئی مجرمانہ پس منظر نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کے خلاف پہلے سے سنگین مجرمانہ مقدمات موجود ہیں تو اس پر یہ حکم لاگو نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ نے پولیس کارروائی سے متعلق سامنے آنے والے الزامات کو ابتدائی طور پر سنجیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔ عدالت نے عندیہ دیا کہ اس مقصد کے لیے ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی تشکیل دی جا سکتی ہے، تاہم اس سے پہلے مرکزی حکومت، دہلی پولیس اور دیگر متعلقہ ریاستوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
عدالت نے دہلی، بہار، مہاراشٹر، کیرالہ، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش کے چیف سیکریٹریز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے تفصیلی جواب طلب کیا ہے، کیونکہ ان ریاستوں میں بھی احتجاج اور پولیس کارروائی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
سپریم کورٹ نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ احتجاج سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈرون ریکارڈنگ، باڈی کیم ویڈیوز، وائرلیس کمیونیکیشن، پی سی آر کالز اور دیگر تمام شواہد محفوظ رکھے جائیں تاکہ مستقبل میں کسی بھی تحقیقات کے دوران انہیں استعمال کیا جا سکے۔
عدالت نے پولیس کو یہ بھی حکم دیا کہ مظاہرین کا ذاتی یا ڈیجیٹل ڈیٹا عوامی سطح پر جاری نہ کیا جائے اور کسی بھی احتجاج کرنے والے کی ذاتی معلومات عوام کے سامنے نہ لائی جائیں۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکلا نے الزام عائد کیا کہ احتجاج کے دوران بعض مقامات پر پیلیٹ گن، ربڑ کی گولیاں، برقی لاٹھیاں اور دیگر طاقت کا استعمال کیا گیا، جس کے باعث کئی طلبہ زخمی ہوئے اور ایک طالب علم کی بینائی متاثر ہونے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔ عدالت نے ان الزامات کو ریکارڈ پر لیا۔
دوسری جانب سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ حکومت بھی کسی بھی غیرقانونی پولیس کارروائی کی حمایت نہیں کرتی، لیکن احتجاج کے دوران بعض جرائم پیشہ افراد بھی مظاہروں میں شامل ہو گئے تھے، جنہوں نے پولیس اہلکاروں پر حملے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل حقائق سامنے لانے کے لیے غیرجانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ جمہوری نظام میں پرامن احتجاج شہریوں کا بنیادی حق ہے، تاہم احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔ عدالت نے اشارہ دیا کہ مستقبل میں احتجاج سے متعلق موجودہ رہنما اصولوں میں تبدیلی یا بہتری لانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
اب اس معاملے کی آئندہ سماعت اگلے ہفتے ہوگی، جہاں مرکزی حکومت، دہلی پولیس اور دیگر ریاستیں اپنا مؤقف عدالت کے سامنے پیش کریں گی، جس کے بعد عدالت مزید احکامات جاری کرے گی۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔