پانچ خواتین، پانچ گولڈ میڈل، ایک تاریخی دن؛ بھارتی باکسرز نے کامن ویلتھ گیمز میں رقم کی نئی تاریخ
کامن ویلتھ گیمز 2026
گلاسگو: بھارتی خواتین باکسنگ کے لیے 2026 کامن ویلتھ گیمز کا ایک دن تاریخ کے سنہری صفحات میں درج ہوگیا، جب بھارت کی پانچ خاتون باکسرز نے رنگ میں اتر کر نہ صرف گولڈ میڈل جیتے بلکہ ملک کے لیے ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا جو طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔
پریتی پوار، جیسمن لامبوریا، ساکشی چودھری، اروندھتی چودھری اور پریا گھنگھاس نے مختلف ویٹ کیٹیگریز میں شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پانچ گولڈ میڈل اپنے نام کیے۔
یہ بھارتی باکسنگ کی تاریخ کا سب سے کامیاب دن ثابت ہوا۔ صرف خواتین ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پر بھارتی باکسرز نے کامن ویلتھ گیمز 2026 میں سات گولڈ میڈل جیت کر نیا ریکارڈ بنا دیا، جو کسی بھی ملک کی جانب سے ایک ایڈیشن میں باکسنگ کے سب سے زیادہ گولڈ میڈلز ہیں۔
پریتی پوار: بیماری کو شکست دے کر رنگ میں اتریں
پریتی پوار کے لیے گولڈ میڈل تک کا سفر آسان نہیں تھا۔ مقابلوں سے چند ہفتے پہلے وہ ہیپاٹائٹس اے جیسی بیماری سے لڑ رہی تھیں، جس نے ان کی جسمانی طاقت کو متاثر کیا تھا۔
لیکن ہمت نہ ہارتے ہوئے انہوں نے صحت یابی حاصل کی اور رنگ میں واپسی کی۔ انہوں نے بھارت کے لیے اس تاریخی دن کا آغاز پہلے گولڈ میڈل سے کیا۔ ان کے پہلے راؤنڈ میں تمام پانچ ججز نے ان کے حق میں فیصلہ دیا۔
جیسمن لامبوریا: اسپتال کے بستر سے چیمپئن بننے تک
جیسمن لامبوریا کا سفر بھی کسی فلمی کہانی سے کم نہیں تھا۔ گیمز شروع ہونے سے تقریباً 40 دن پہلے وہ اسپتال میں تھیں اور ان کی تیاری رک گئی تھی۔
بیماری سے واپسی کے بعد انہوں نے دوبارہ خود کو مضبوط بنایا، فائنل میں شاندار مقابلہ کیا اور گولڈ میڈل جیت لیا۔ بعد میں اختتامی تقریب میں بھارت کا پرچم اٹھانے کا اعزاز بھی انہیں ملا۔
اروندھتی چودھری: آئی آئی ٹی کے خواب کو چھوڑ کر باکسنگ کا انتخاب
اروندھتی چودھری کی کہانی اپنے خواب کے پیچھے چلنے کی مثال ہے۔ ان کے خاندان کی خواہش تھی کہ وہ آئی آئی ٹی کی تیاری کریں، لیکن اروندھتی نے باکسنگ کو اپنا راستہ منتخب کیا۔
ان کے اس فیصلے نے انہیں کامن ویلتھ چیمپئن بنا دیا۔ انہوں نے 70 کلوگرام فائنل میں متفقہ طور پر 5-0 سے کامیابی حاصل کی اور ثابت کیا کہ کامیابی صرف روایتی راستوں سے نہیں بلکہ اپنے جذبے کو اپنانے سے بھی مل سکتی ہے۔
ساکشی چودھری: ناکامیوں کے بعد زبردست واپسی
ساکشی چودھری نے کئی مشکل مراحل دیکھے۔ وہ 2022 کامن ویلتھ گیمز اور پیرس اولمپکس میں جگہ نہیں بنا سکیں، لیکن انہوں نے محنت جاری رکھی۔
اس بار انہوں نے ٹرائلز میں دو مرتبہ کی عالمی چیمپئن کو شکست دے کر اپنی جگہ بنائی اور گلاسگو میں گولڈ میڈل جیت کر ثابت کر دیا کہ مسلسل کوشش کبھی ضائع نہیں جاتی۔
پریا گھنگھاس: ہار کے قریب سے جیت تک کا سفر
پریا گھنگھاس کا فائنل مقابلہ سب سے زیادہ سنسنی خیز رہا۔ وہ پہلے راؤنڈ میں پیچھے تھیں اور ایسا لگ رہا تھا کہ مقابلہ ہاتھ سے نکل جائے گا۔
لیکن پریا نے ہمت نہیں ہاری۔ انہوں نے اگلے دو راؤنڈز میں زبردست واپسی کی اور شکست کو فتح میں بدل دیا۔ ان کا گولڈ میڈل یہ پیغام دیتا ہے کہ آخری لمحے تک کوشش کرنے والا کھلاڑی کبھی ہارتا نہیں۔
صرف میڈل نہیں، ایک نئی امید
ان پانچوں خواتین نے بھارت کے پچھلے ریکارڈ کو بھی توڑ دیا، جہاں ایک کامن ویلتھ گیمز میں زیادہ سے زیادہ تین باکسنگ گولڈ میڈلز کا ریکارڈ تھا۔
لیکن ان کی کامیابی صرف میڈلز تک محدود نہیں۔ کسی نے بیماری کو شکست دی، کسی نے خاندانی دباؤ کا سامنا کیا، کسی نے ناکامی کے بعد واپسی کی اور کسی نے ہار کے قریب پہنچ کر فتح حاصل کی۔
گلاسگو کا یہ تاریخی دن بھارتی خواتین کی باکسنگ کی طاقت، محنت اور عزم کی علامت بن گیا ہے۔ ان پانچ چیمپئنز کی کہانیاں آنے والی نسلوں، خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کے لیے حوصلے اور کامیابی کی مثال رہیں گی۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔