تین سال کی عمر میں والدین کو کھویا، مخالفت برداشت کی، پھر کینسر ریسرچر بن کر اپنی پہچان حاصل کی؛ سوری کی متاثر کن کہانی
سوری کی متاثر کن
ہریانہ: زندگی میں کچھ لوگ ایسے سفر طے کرتے ہیں جو صرف کامیابی کی کہانی نہیں ہوتے بلکہ حوصلے، جدوجہد اور اپنی شناخت تلاش کرنے کی مثال بن جاتے ہیں۔ ہریانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی سوری کی کہانی بھی کچھ ایسی ہی ہے، جنہوں نے بچپن کی مشکلات، سماجی دباؤ اور تنہائی کا سامنا کرتے ہوئے اپنی ایک الگ پہچان بنائی۔
سوری صرف تین سال کی تھیں جب انہوں نے اپنے والدین کو کھو دیا۔ بچپن کی وہ عمر جب ایک بچے کو والدین کی محبت اور حفاظت کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، سوری نے اپنی دادی اور ماسی کے سہارے گزارا۔
لیکن بچپن سے ہی انہیں محسوس ہوتا تھا کہ وہ دوسروں سے مختلف ہیں۔ وہ خود کو دنیا سے الگ انداز میں محسوس کرتی تھیں، مگر اس احساس کو سمجھنے کے لیے ان کے پاس نہ الفاظ تھے اور نہ کوئی رہنمائی۔
مختلف ہونے کی وجہ سے بچپن میں تکلیف برداشت کی
سوری کی نسوانی خصوصیات کو دیکھ کر آس پاس کے لوگ انہیں مذاق کا نشانہ بناتے تھے۔ کبھی اجنبیوں کی باتیں سننی پڑیں اور کبھی اپنے ہی لوگوں کی سختیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
کچھ رشتہ داروں نے بھی ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا۔ ایک ایسے بچے کے لیے یہ سب بہت تکلیف دہ تھا جو صرف اپنی اصل شخصیت کے ساتھ جینا چاہتا تھا۔
ان حالات میں سوری نے خود کو خاموش کر لیا۔ انہوں نے اپنی تکلیف کو ظاہر کرنے کے بجائے اپنی پوری توجہ تعلیم پر لگا دی۔ پڑھائی ان کے لیے صرف کامیابی کا راستہ نہیں بلکہ مشکلات سے نکلنے کا ذریعہ بن گئی۔
جرمنی نے دی اپنی شناخت کو سمجھنے کی طاقت
وقت کے ساتھ سوری نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور کینسر ریسرچ میں پی ایچ ڈی کے لیے جرمنی چلی گئیں۔
ایک نئے ملک، نئی زبان اور نئے ماحول میں بھی انہوں نے اپنی محنت سے مقام بنایا۔ لیکن جرمنی میں انہیں صرف تعلیمی کامیابی ہی نہیں ملی بلکہ ایک ایسی کمیونٹی بھی ملی جہاں وہ خود کو سمجھ سکیں۔
وہاں انہوں نے ایسے لوگوں سے ملاقات کی جن کے تجربات ان سے ملتے جلتے تھے۔ انہیں پہلی بار یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ وہ “غلط” نہیں تھیں بلکہ ان کی شناخت ایک حقیقت ہے۔
اسی سفر میں انہوں نے خود کو ایک ٹرانس جینڈر خاتون کے طور پر قبول کیا اور اپنی شناخت کو چھپانے کے بجائے اسے فخر کے ساتھ اپنانا شروع کیا۔
80 سالہ دادی کو بتانے کا مشکل فیصلہ
سوری کے لیے سب سے مشکل مرحلہ اپنی دادی کو اپنی حقیقت بتانا تھا۔ ایک چھوٹے گاؤں میں رہنے والی 80 سالہ دادی کے سامنے یہ بات رکھنا آسان نہیں تھا۔
لیکن سوری نے ہمت کی اور اپنی دادی سے بات کی۔ دونوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، مگر دادی نے ایسا جواب دیا جس نے سوری کے دل کو چھو لیا۔
دادی نے کہا:
“اگر یہ تمہیں خوش رکھتا ہے تو میں بھی خوش ہوں۔”
یہ چند الفاظ سوری کے لیے برسوں کی تکلیف، خاموشی اور خوف کے بعد قبولیت کا احساس لے کر آئے۔
جب انہوں نے اپنی ماسی کو بتایا تو ماسی نے مسکرا کر کہا:
“مجھے ہمیشہ سے معلوم تھا۔”
آج سوری کینسر ریسرچ کے شعبے میں کام کر رہی ہیں
آج سوری ایک ٹرانس جینڈر خاتون ہونے کے ساتھ ساتھ کینسر ریسرچ کے شعبے میں کام کرنے والی سائنسدان بھی ہیں۔ وہ اپنی شناخت اور اپنے کام دونوں کو فخر کے ساتھ قبول کرتی ہیں۔
ان کی کہانی صرف مشکلات سے کامیابی تک پہنچنے کی داستان نہیں بلکہ اس بات کی مثال ہے کہ جب انسان کو قبولیت اور حوصلہ ملتا ہے تو وہ اپنی صلاحیتوں کو پوری دنیا کے سامنے لا سکتا ہے۔
سوری کا سفر ہریانہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے شروع ہوا، جہاں انہیں اپنی پہچان چھپانی پڑی، لیکن آج وہ اپنی شناخت کے ساتھ کھڑی ہیں اور سائنس کے میدان میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔
ان کی کہانی یہ پیغام دیتی ہے کہ قبولیت کسی انسان کی زندگی کو بدل سکتی ہے اور اسے اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ جینے کا حوصلہ دے سکتی ہے۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔