کانگو میں ایبولا وائرس سے تباہی، ہلاکتیں 1500 سے تجاوز، عالمی اداروں میں تشویش
افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کی حالیہ وبا تیزی سے سنگین صورت اختیار کر رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 1500 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
کانگو میں ایبولا وائرس سے ہلاکتیں بڑھ گئیں
جمہوریہ کانگو میں 15 مئی کو ایبولا وائرس کے نئے پھیلاؤ کا اعلان کیا گیا تھا۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 29 جولائی تک 3442 افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ 1521 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ صرف ایک ہفتے کے دوران ہلاکتوں میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس نے عالمی صحت کے ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
کون سا وائرس پھیل رہا ہے؟
اس بار پھیلنے والی وبا بنڈی بوجیو قسم کے ایبولا وائرس سے منسلک ہے۔ عالمی ماہرین کے مطابق اس وائرس کے لیے فی الحال نہ کوئی منظور شدہ ویکسین دستیاب ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص علاج، جس کے باعث صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
مریضوں کی موجودہ صورتحال
سرکاری رپورٹ کے مطابق اس وقت 797 مریض اسپتالوں یا آئسولیشن مراکز میں زیر علاج ہیں، جبکہ 615 افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ تاہم متاثرہ افراد کے رابطوں کی نگرانی کا عمل مطلوبہ رفتار سے نہیں ہو پا رہا، جس سے وائرس کے مزید پھیلنے کا خدشہ برقرار ہے۔
سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ
وبا کا تقریباً 90 فیصد حصہ مشرقی کانگو کے ایتوری صوبے تک محدود ہے، تاہم وائرس پانچ دیگر صوبوں تک بھی پہنچ چکا ہے، جن میں کانگو کا اہم شہر کسانگانی بھی شامل ہے۔
امدادی کارروائیاں متاثر
جولائی کے وسط میں ایک اسپتال اور علاج مرکز پر حملے کے بعد عالمی ادارۂ صحت (WHO)، افریقہ سی ڈی سی اور دیگر امدادی تنظیموں نے عارضی طور پر اپنے عملے کو واپس بلا لیا تھا، جس کے نتیجے میں نگرانی، مریضوں کی تلاش اور طبی امداد کے کام شدید متاثر ہوئے۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی صورتحال اب بہتر ہو رہی ہے اور عالمی اداروں سے دوبارہ خدمات بحال کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔
ایبولا وائرس کیسے پھیلتا ہے؟
ایبولا ایک نہایت خطرناک اور متعدی وائرس ہے، جو متاثرہ شخص کے خون، قے، جسمانی رطوبتوں یا دیگر جسمانی سیالوں کے براہِ راست رابطے سے منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ بیماری شدید بخار، کمزوری، خون بہنے اور مختلف اعضا کے متاثر ہونے کا سبب بن سکتی ہے، اور بروقت علاج نہ ملنے پر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
عالمی تشویش
ماہرین صحت کے مطابق موجودہ وبا گزشتہ کئی برسوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اگرچہ 2014 سے 2016 کے دوران ایبولا کی بڑی وبا میں مجموعی طور پر 11 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، لیکن اس بار صرف چند ہفتوں میں ہی ہلاکتوں کی رفتار غیر معمولی دیکھی جا رہی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
نوٹ: یہ رپورٹ دستیاب سرکاری معلومات اور بین الاقوامی ذرائع پر مبنی ہے۔ صورتحال مسلسل تبدیل ہو سکتی ہے، اس لیے تازہ ترین معلومات کے لیے متعلقہ صحت حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔