Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

جرائم اور حادثات 🚨

حیدرآباد میں منشیات کا بڑھتا جال: نوجوان سب سے زیادہ نشانے پر، والدین کے لیے خطرے کی گھنٹی

By Editor - Rahbar News
July 30, 2026 3 Min Read
0

حیدرآباد: تلنگانہ کے دارالحکومت حیدرآباد میں منشیات کے استعمال اور غیر قانونی اسمگلنگ کے واقعات میں گزشتہ چند برسوں کے دوران تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پولیس اور تلنگانہ اینٹی نارکوٹکس بیورو کی جانب سے جاری کردہ کارروائیوں اور اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی نشہ آور اشیاء کے ساتھ ساتھ مصنوعی (سنتھیٹک) منشیات بھی تیزی سے نوجوانوں تک پہنچ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بروقت مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ معاشرے، خصوصاً نئی نسل، کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حیدرآباد میں منشیات کے بڑھتے رجحان کے پیچھے کئی عوامل کارفرما ہیں۔ تیزی سے بدلتا طرزِ زندگی، نوجوانوں میں آسانی سے پیسہ خرچ کرنے کا رجحان، سوشل میڈیا اور خفیہ میسجنگ ایپس کے ذریعے منشیات کی خرید و فروخت، اور بعض اوقات والدین اور بچوں کے درمیان مؤثر رابطے کا فقدان اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق منشیات فروخت کرنے والے افراد جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔

پولیس کے دستیاب اعداد و شمار کے مطابق جون 2025 سے جون 2026 کے درمیان این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت 563 مقدمات درج کیے گئے، جبکہ مختلف کارروائیوں میں تقریباً 22.17 کروڑ روپے مالیت کی منشیات ضبط کی گئیں۔ ضبط کی جانے والی منشیات میں بڑی مقدار میں گانجہ، ہیش آئل، ایم ڈی ایم اے (پارٹی ڈرگ)، کوکین، ہیروئن اور ایل ایس ڈی شامل ہیں، جو نوجوانوں کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک سمجھی جاتی ہیں۔

رپورٹس کے مطابق جوبلی ہلز، سکندرآباد، گولکنڈہ، چارمینار، راجندر نگر، خیرت آباد اور شمشاد آباد جیسے علاقوں میں این ڈی پی ایس ایکٹ کے تحت نسبتاً زیادہ مقدمات درج کیے گئے۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ علاقے مکمل طور پر منشیات کے مراکز ہیں، بلکہ یہ وہ مقامات ہیں جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے زیادہ کارروائیاں کیں اور مقدمات درج کیے۔

حکام کا کہنا ہے کہ منشیات فروخت کرنے والے عناصر خاص طور پر اسکول اور کالج کے طلبہ، نوجوانوں، آئی ٹی اور کارپوریٹ شعبے سے وابستہ ملازمین اور پارٹی کلچر سے جڑے افراد کو اپنا ہدف بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پولیس نے والدین کو بھی متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اجنبی افراد سے کسی بھی قسم کی کھانے پینے کی چیز، ویپ یا مشروب لینے سے منع کریں اور ان کی روزمرہ سرگرمیوں پر مناسب نظر رکھیں۔

تلنگانہ حکومت نے منشیات کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کی جانب سے ایگل ٹاسک فورس قائم کی گئی ہے، جبکہ پولیس مختلف علاقوں میں خصوصی چھاپے، تعلیمی اداروں میں آگاہی مہمات اور بین الریاستی اسمگلنگ کے راستوں پر نگرانی جیسے اقدامات بھی انجام دے رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں اساتذہ اور طلبہ کے تعاون سے انسدادِ منشیات کمیٹیاں بھی تشکیل دی جا رہی ہیں تاکہ بروقت مشتبہ سرگرمیوں کی اطلاع دی جا سکے۔

طبی ماہرین کے مطابق منشیات کا استعمال صرف عارضی نشہ نہیں بلکہ جسم اور دماغ دونوں پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ مسلسل استعمال سے دل کی بیماریاں، ذہنی دباؤ، بے چینی، ڈپریشن، نیند کی خرابی، یادداشت کی کمزوری اور بعض اوقات شدید نفسیاتی مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ بعض مصنوعی منشیات کا زیادہ استعمال جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ ماحول قائم کریں، ان کی صحبت، روزمرہ عادات اور اخراجات پر مناسب توجہ دیں، اور اگر اچانک رویے میں تبدیلی، پڑھائی میں دلچسپی کم ہونا، غیر معمولی غصہ، تنہائی پسند ہونا یا مشکوک سرگرمیاں نظر آئیں تو انہیں نظر انداز نہ کریں۔ بروقت رہنمائی اور مشاورت نوجوانوں کو اس خطرناک راستے سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اگر کسی شخص کو منشیات کی لت کا شبہ ہو یا کسی غیر قانونی سرگرمی کی اطلاع دینا مقصود ہو تو متعلقہ پولیس یا سرکاری اداروں سے فوری رابطہ کرنا چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ منشیات کے خلاف جنگ صرف پولیس یا حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، تعلیمی اداروں اور پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ بروقت آگاہی، احتیاط اور تعاون ہی نوجوان نسل کو اس خاموش خطرے سے محفوظ رکھنے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔

📲 واٹس ایپ چینل کھولیں

🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔

Share This Article
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
Previous

سر منڈوانے پر 15 ہزار روپے کا لالچ، جعلی سرکاری اسکیم کے جھانسے میں آ کر تین خواتین نے اپنے بال منڈوا لیے

Next

کانگو میں ایبولا وائرس سے تباہی، ہلاکتیں 1500 سے تجاوز، عالمی اداروں میں تشویش

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.