اتر پردیش: سہارنپور میں ہندو رکشا دل کا دارالعلوم دیوبند کے سروے کا مطالبہ، ضلع انتظامیہ کو میمورنڈم پیش
سہارنپور: اتر پردیش کے ضلع سہارنپور میں ایک نیا تنازعہ سامنے آیا ہے۔ ہندو رکشا دل نامی تنظیم کے ریاستی صدر للت شرما کی قیادت میں ایک وفد نے سہارنپور ضلع انتظامیہ کے دفتر پہنچ کر ایک میمورنڈم سونپا ہے。 اس میمورنڈم میں تنظیم کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ معروف اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے احاطے کے نیچے ایک قدیم شیو مندر موجود ہے، جس کی سائنسی اور آرکیولوجیکل (آثارِ قدیمہ) جانچ ہونی چاہیے。
میمورنڈم میں کیے گئے دعوے
سائنسی سروے کا مطالبہ: تنظیم کے صدر للت شرما نے الزام لگایا ہے کہ مذہبی کمپلیکس کے نیچے تقریباً ۱۴ فٹ گہرائی میں مندر کے آثار موجود ہیں。 انہوں نے محکمہ آثارِ قدیمہسے اس جگہ کا سائنسی سروے کرانے کا مطالبہ کیا ہے。
ثبوت اور قانونی چارہ جوئی: للت شرما کا کہنا ہے کہ ان کی تنظیم کے پاس اس دعوے کے حق میں شواہد موجود ہیں، تاہم وہ انہیں ابھی عام نہیں کریں گے بلکہ عدالت میں پیش کریں گے。 انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر انتظامیہ نے اس معاملے میں کارروائی کرنے میں تاخیر کی، تو وہ اس انکوائری کے لیے عدالت کا رخ کریں گے。
دارالعلوم دیوبند کی تاریخی حیثیت
دارالعلوم دیوبند کا شمار دنیا کی قدیم ترین، سب سے بڑی اور بااثر سنی اسلامی درسگاہوں میں ہوتا ہے، جس کا قیام ۱۸۶۶ میں عمل میں آیا تھا。 اس تاریخی ادارے سے ایشیا، افریقہ اور یورپ کے لاکھوں اسکالرز اور طلبہ نے تعلیم حاصل کی ہے。 تنظیم کی جانب سے اس تاریخی عمارت کی کھدائی اور سروے کے مطالبات کے بعد مقامی سماج اور کمیونٹی میں تشویش پائی جا رہی ہے。
انتظامیہ نے میمورنڈم قبول کر لیا ہے، اور اس حساس معاملے پر نظر رکھی جا رہی ہے۔