ذیابیطس: خاموش بیماری جو جسم کے کئی حصوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، جانیں پری ڈائبیٹیز کی علامات، ٹیسٹ اور بچاؤ کے طریقے
(ذیابیطس سے بچاؤ)
ذیابیطس صرف خون میں شوگر بڑھ جانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی خاموش بیماری ہے جو وقت کے ساتھ انسان کی صحت کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ بہت سے لوگ برسوں تک اس بیماری سے واقف نہیں ہوتے، لیکن اندر ہی اندر یہ جسم کے اہم حصوں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتی ہے۔
اگر ذیابیطس کو قابو میں نہ رکھا جائے تو انسان کو کئی سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آنکھوں کی روشنی متاثر ہو سکتی ہے، یہاں تک کہ بینائی جانے کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ گردے آہستہ آہستہ کمزور ہو سکتے ہیں اور بعض مریضوں کو گردوں کے علاج یا ڈائلیسس تک کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ دل کی بیماری، ہارٹ اٹیک اور فالج کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
صرف یہی نہیں، ذیابیطس اعصاب کو بھی متاثر کر سکتی ہے، جس سے ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونا، جلن یا سوئیاں چبھنے جیسا احساس ہونے لگتا ہے۔ کچھ لوگوں میں زخم دیر سے ٹھیک ہوتے ہیں اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ یہ بیماری انسان کی روزمرہ زندگی، کھانے پینے کی عادات اور صحت پر مسلسل اثر ڈال سکتی ہے۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ ذیابیطس کئی بار شروع میں واضح علامات نہیں دیتی، اسی لیے بہت سے افراد کو اس کا پتہ اس وقت چلتا ہے جب مسئلہ کافی بڑھ چکا ہوتا ہے۔ لیکن اچھی بات یہ ہے کہ وقت پر احتیاط، ٹیسٹ، بہتر خوراک اور ورزش کے ذریعے اس کے خطرے کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
اسی لیے پری ڈائبیٹیز یعنی ذیابیطس سے پہلے والی حالت کو پہچاننا بہت ضروری ہے، کیونکہ اس مرحلے پر طرز زندگی میں تبدیلی لا کر مستقبل میں بڑی پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے۔
ذیابیطس جسم کو کیسے نقصان پہنچا سکتی ہے؟
خون میں شوگر کی مقدار زیادہ رہنے سے خون کی نالیاں متاثر ہونے لگتی ہیں، جس سے کئی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
دل کی بیماری اور ہارٹ اٹیک کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
آنکھوں کی بینائی متاثر ہو سکتی ہے۔
گردوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور گردوں کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ہاتھوں اور پیروں میں سن ہونا یا سوئیاں چبھنے جیسا احساس ہو سکتا ہے۔
زخم دیر سے بھر سکتے ہیں اور انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اسی لیے ذیابیطس کو کنٹرول کرنا اور اس سے پہلے کے مرحلے یعنی پری ڈائبیٹیز کو پہچاننا بہت ضروری ہے۔
پری ڈائبیٹیز کیا ہے؟
پری ڈائبیٹیز وہ حالت ہے جب خون میں شوگر کی سطح نارمل سے زیادہ ہو جاتی ہے، لیکن ابھی ذیابیطس کی حد تک نہیں پہنچی ہوتی۔ اگر اس مرحلے پر احتیاط نہ کی جائے تو مستقبل میں ٹائپ 2 ذیابیطس کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
امریکن ڈائبیٹیز ایسوسی ایشن کے مطابق عام طور پر 35 سال کی عمر کے بعد شوگر کی اسکریننگ شروع کرنے کی سفارش کی جاتی ہے، جبکہ زیادہ وزن والے افراد یا خطرے کے عوامل رکھنے والے لوگوں میں اس سے پہلے بھی ٹیسٹ ضروری ہو سکتا ہے۔
پری ڈائبیٹیز کی تشخیص کے لیے اہم ٹیسٹ
اے ون سی (HbA1C) ٹیسٹ
یہ ٹیسٹ گزشتہ 2 سے 3 ماہ کے دوران خون میں شوگر کی اوسط سطح بتاتا ہے۔
نارمل: 5.7 فیصد سے کم
پری ڈائبیٹیز: 5.7 سے 6.4 فیصد
ذیابیطس: 6.5 فیصد یا اس سے زیادہ
فاسٹنگ بلڈ شوگر ٹیسٹ
یہ ٹیسٹ کم از کم 8 گھنٹے کے روزے کے بعد کیا جاتا ہے۔
نارمل: 100 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم
پری ڈائبیٹیز: 100 سے 125 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر
ذیابیطس: 126 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر یا اس سے زیادہ
3. اورل گلوکوز ٹالرنس ٹیسٹ
اس میں میٹھا محلول پینے سے پہلے اور دو گھنٹے بعد خون میں شوگر چیک کی جاتی ہے۔
نارمل: 140 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم
پری ڈائبیٹیز: 140 سے 199 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر
ذیابیطس: 200 ملی گرام فی ڈیسی لیٹر یا اس سے زیادہ
پری ڈائبیٹیز سے بچاؤ اور علاج کے طریقے
پری ڈائبیٹیز کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسے ٹائپ 2 ذیابیطس میں تبدیل ہونے سے روکا جائے۔ اس کے لیے چند اہم اقدامات ضروری ہیں۔
صحت مند غذا اپنائیں
اپنی خوراک میں فائبر والی غذائیں، سبزیاں، پھل، خشک میوہ جات، ثابت اناج اور صحت مند چکنائیاں شامل کریں۔
کم کریں:
زیادہ میٹھا کھانا
سفید آٹا اور زیادہ کاربوہائیڈریٹس
تلی ہوئی اور زیادہ چکنائی والی غذائیں
ورزش کو معمول بنائیں
ہفتے میں کم از کم 150 منٹ درمیانی درجے کی ورزش جیسے تیز چہل قدمی، سائیکل چلانا یا دوسری جسمانی سرگرمیاں فائدہ مند ہیں۔
وزن کم کریں
اگر کسی شخص کا وزن زیادہ ہے تو صرف 5 سے 7 فیصد وزن کم کرنا بھی ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے کو کافی حد تک کم کر سکتا ہے۔
تمباکو نوشی چھوڑیں
تمباکو نوشی انسولین کے کام کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسے چھوڑنے سے جسم میں انسولین بہتر طریقے سے کام کر سکتی ہے۔
ادویات
کچھ زیادہ خطرے والے افراد میں ڈاکٹر شوگر کو قابو میں رکھنے کے لیے میٹفارمن جیسی دوا تجویز کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ضرورت کے مطابق بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی دوائیں بھی دی جا سکتی ہیں۔
بچوں میں پری ڈائبیٹیز
آج کل بچوں میں بھی وزن بڑھنے کی وجہ سے پری ڈائبیٹیز کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ ایسے بچوں کا ٹیسٹ ضروری ہو سکتا ہے جن کا وزن زیادہ ہو یا جن کے خاندان میں ذیابیطس کی تاریخ ہو۔
بچوں میں تشخیص کے لیے بھی وہی پیمانے استعمال کیے جاتے ہیں جو بڑوں کے لیے ہیں۔
بچوں میں علاج کا بنیادی طریقہ:
وزن کو متوازن رکھنا
میٹھے مشروبات اور غیر صحت مند کھانے کم کرنا
روزانہ کم از کم 60 منٹ جسمانی سرگرمی کرنا
عام طور پر بچوں میں دوا کی ضرورت صرف اس وقت پڑتی ہے جب طرز زندگی میں تبدیلی سے فائدہ نہ ہو۔
نتیجہ
ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جسے وقت پر پہچان کر کافی حد تک کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ پری ڈائبیٹیز کے مرحلے میں اگر خوراک، ورزش اور وزن پر توجہ دی جائے تو مستقبل میں ذیابیطس سے بچاؤ ممکن ہے۔ باقاعدہ ٹیسٹ اور صحت مند طرز زندگی ہی اس بیماری کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار ہیں۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔