جھونپڑیوں کی دیواروں کو کلاس روم بنانے والی روبل ناگی، دنیا کی بہترین ٹیچر کا اعزاز جیت کر 9 کروڑ روپے کی انعامی رقم حاصل کر لی
روبل ناگی کی کہانی
اکثر ہم سنتے ہیں کہ ایک استاد کلاس روم کے اندر رہ کر بچوں کی زندگی بدل دیتا ہے، لیکن اگر کلاس روم ہی موجود نہ ہو تو کیا ہوگا؟ بھارت کی روبل ناگی نے اسی سوال کا جواب ایک منفرد انداز میں دیا۔ انہوں نے جھونپڑی بستیوں کی خالی دیواروں کو ہی بچوں کے لیے کلاس روم بنا دیا اور ہزاروں بچوں کی زندگی میں تعلیم کی روشنی پھیلائی۔
ان کی اسی غیر معمولی کوشش نے انہیں گلوبل ٹیچر پرائز کا حقدار بنایا، جسے تعلیم کے شعبے کا “نوبل انعام” بھی کہا جاتا ہے۔ روبل ناگی نے ایک ملین ڈالر یعنی تقریباً 9 کروڑ روپے کا انعام جیتا۔
ایک فنکار سے بچوں کی زندگی بدلنے والی استاد تک کا سفر
جموں و کشمیر میں پیدا ہونے والی روبل ناگی ممبئی میں بطور فنکار کام کر رہی تھیں۔ ان کی زندگی کا رخ اس وقت بدل گیا جب ایک جھونپڑی بستی کا ایک بچہ ان کے آرٹ ورکشاپ میں پہنچا۔
بات چیت کے دوران انہیں معلوم ہوا کہ وہ بچہ اسکول جانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ یہ بات روبل کے دل کو چھو گئی اور وہ خود اس بچے کی بستی میں پہنچ گئیں۔
انہوں نے وہاں دیواروں پر خوبصورت پینٹنگز بنانا شروع کیں، لیکن جلد ہی آس پاس کے بچے ان کے قریب جمع ہونے لگے۔ وہ تصویروں کے ذریعے کہانیاں سننے اور نئی چیزیں سیکھنے میں دلچسپی لینے لگے۔
دیواریں بن گئیں بلیک بورڈ
روبل ناگی نے محسوس کیا کہ بچوں کو تعلیم دینے کے لیے ہمیشہ بڑی عمارتوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ انہوں نے خالی دیواروں کو ہی بلیک بورڈ میں تبدیل کرنا شروع کر دیا۔
ان دیواروں پر حروف تہجی، ریاضی کے سوالات، پہاڑے، نقشے اور دیگر تعلیمی مواد بنایا گیا، تاکہ بچے کھیل کھیل میں سیکھ سکیں۔
علاقوں میں تعلیمی کام
روبل ناگی آرٹ فاؤنڈیشن نے اب تک بھارت کی 100 سے زیادہ محروم بستیوں اور دیہی علاقوں میں 800 سے زائد تعلیمی مراکز قائم کیے ہیں۔
ان کی تنظیم صرف تعلیم تک محدود نہیں رہی بلکہ جھونپڑیوں اور دیہی علاقوں میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ گھروں کی مرمت اور تعمیر نو میں بھی مدد کر چکی ہے۔
دنیا بھر میں ملا اعزاز
روبل ناگی کو دبئی میں منعقدہ ورلڈ گورنمنٹ سمٹ کے دوران ورکی فاؤنڈیشن اور یونیسکو کی شراکت داری سے گلوبل ٹیچر پرائز سے نوازا گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ روبل ناگی کو ابتدا میں اس انعام کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھیں۔ ان کی ٹیم کے اصرار پر انہوں نے درخواست دی اور دنیا بھر سے آنے والی 5000 سے زیادہ نامزدگیوں میں سے منتخب ہوئیں۔
اب جموں و کشمیر میں نئے منصوبوں کا ارادہ
اعزاز حاصل کرنے کے بعد بھی روبل ناگی کا سفر جاری ہے۔ وہ اب جموں و کشمیر میں اسکول اور ہنر مندی کے تربیتی مراکز قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہیں تاکہ مزید بچوں کو تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
روبل ناگی کی کہانی ثابت کرتی ہے کہ تعلیم کے لیے صرف عمارتیں نہیں بلکہ ایک مضبوط ارادہ اور دوسروں کی زندگی بدلنے کا جذبہ ضروری ہوتا ہے۔ ایک فنکار نے دیواروں کو کتاب بنا دیا اور ہزاروں بچوں کے لیے امید کا دروازہ کھول دیا۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔