Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
ہمارے واٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

قومی خبریں 🏛️

مدھیہ پردیش یکساں سول کوڈ نافذ کرنے والی ملک کی چوتھی ریاست بن گئی، کیا پورے ہندوستان میں مسلم پرسنل لا ختم ہو سکتا ہے؟

By Editor - Rahbar News
July 22, 2026 3 Min Read
0

بھوپال: مدھیہ پردیش نے یکساں شہری قانون منظور کرکے ملک کی چوتھی ریاست بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں اس نوعیت کا قانون نافذ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل اتراکھنڈ، گوا (جہاں پہلے سے یکساں شہری قانون نافذ ہے) اور گجرات کے بعد مدھیہ پردیش نے بھی اس سمت میں اہم قدم اٹھایا ہے۔

اس فیصلے کے بعد ملک بھر میں یہ سوال زور پکڑ رہا ہے کہ اگر مستقبل میں پورے ہندوستان میں یکساں شہری قانون نافذ کر دیا گیا تو مسلمانوں کی ذاتی زندگی اور مسلم عائلی قوانین پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟


یکساں شہری قانون کیا ہے؟

یکساں شہری قانون ایسا قانون ہے جس کے تحت شادی، طلاق، وراثت، گود لینے اور دیگر خاندانی معاملات کے لیے تمام شہریوں پر ایک ہی قانون نافذ ہوگا، خواہ ان کا مذہب کوئی بھی ہو۔ اس وقت ہندوستان میں مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے لیے الگ الگ عائلی قوانین موجود ہیں۔


اگر مستقبل میں پورے ہندوستان میں یکساں شہری قانون نافذ ہوا تو مسلمانوں پر ممکنہ اثرات کیا ہوں گے؟

نوٹ: ذیل میں بیان کی گئی تبدیلیاں مدھیہ پردیش کے قانون اور مختلف مجوزہ مسودوں کی بنیاد پر ممکنہ اثرات ہیں۔ ملک گیر قانون کی حتمی صورت پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے قانون پر منحصر ہوگی۔

ایک سے زیادہ شادی پر پابندی

اگر ملک گیر یکساں شہری قانون نافذ ہوتا ہے تو مسلمان مردوں کے لیے ایک سے زیادہ شادی کی قانونی اجازت ختم ہو سکتی ہے اور صرف ایک شادی کو قانونی حیثیت حاصل ہوگی۔

نکاحِ حلالہ پر پابندی

مدھیہ پردیش کے قانون میں نکاحِ حلالہ کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہی قانون پورے ملک میں نافذ ہوا تو یہ پابندی ہر ریاست میں لاگو ہو سکتی ہے۔

طلاق صرف عدالت کے ذریعے

طلاق صرف عدالتی اور قانونی کارروائی کے ذریعے ممکن ہوگی۔ مذہبی طریقۂ کار کے ساتھ سرکاری قانونی عمل بھی لازمی ہوگا۔

شادی کی سرکاری اندراج لازمی

ہر نکاح کا سرکاری اندراج لازمی ہوگا۔ صرف نکاح نامہ قانونی تقاضا پورا کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔

وراثت کے قوانین میں تبدیلی

شریعت کے مطابق وراثت کی تقسیم کے بجائے بیٹوں اور بیٹیوں کو مساوی حقوق دیے جا سکتے ہیں، اگر ملک گیر قانون بھی اسی طرز پر نافذ کیا جاتا ہے۔

تمام خاندانی معاملات کے لیے ایک ہی قانون

شادی، طلاق، گود لینے، کفالت اور دیگر خاندانی معاملات میں مذہب کی بنیاد پر الگ الگ قوانین کے بجائے ایک مشترکہ قانون نافذ ہوگا۔


کیا پورے ہندوستان میں ابھی یکساں شہری قانون نافذ ہو گیا ہے؟

نہیں۔

فی الحال ایسا نہیں ہے۔

اس وقت مدھیہ پردیش میں ریاستی قانون نافذ کیا گیا ہے۔ پورے ہندوستان میں یکساں شہری قانون نافذ کرنے کے لیے پارلیمنٹ سے الگ قانون منظور ہونا ضروری ہوگا۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا، دیگر ریاستوں میں موجود قوانین ہی نافذ رہیں گے۔


حکومت کا مؤقف

حکومت کا کہنا ہے کہ یکساں شہری قانون کا مقصد:

تمام شہریوں کے لیے یکساں قانون نافذ کرنا۔

خواتین کو مساوی حقوق فراہم کرنا۔

قانونی نظام کو آسان اور شفاف بنانا۔

ہے۔


مسلم تنظیموں کا مؤقف

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور دیگر مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ:

مسلم عائلی قوانین مذہبی آزادی کا حصہ ہیں۔

آئین کے دفعہ 25 کے تحت مذہبی آزادی حاصل ہے۔

یکساں شہری قانون مذہبی شناخت اور شخصی قوانین کو متاثر کر سکتا ہے۔


نتیجہ

مدھیہ پردیش کا فیصلہ یکساں شہری قانون کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، لیکن پورے ہندوستان میں یہ قانون ابھی نافذ نہیں ہوا ہے۔ اگر مستقبل میں پارلیمنٹ ملک گیر قانون منظور کرتی ہے تو اسی قانون کی حتمی دفعات طے کریں گی کہ مسلمانوں کے عائلی قوانین میں کیا تبدیلیاں آئیں گی۔

Share This Article
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
Previous

او این جی سی میں انجینئرز اور جیولوجسٹ کی بھرتی، سالانہ تقریباً 26 لاکھ روپے تک پیکیج، درخواستیں شروع

Next

گھر کے اندر کینسر کا خطرہ کیوں بڑھتا ہے؟ جانئے وہ وجوہات جن سے اکثر لوگ بے خبر ہیں

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.