اسرائیل اور نیتن یاہو کے خلاف دنیا بھر میں شدید عوامی غصہ، امریکی عوام کی رائے میں بھی آئی بڑی تبدیلی، عالمی سروے میں انکشاف
ڈیسک: دنیا کے معتبر ترین تحقیقی اداروں میں شمار ہونے والے پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے جاری کردہ دو الگ الگ سروے رپورٹس نے عالمی سطح پر کھلبلی مچا دی ہے۔ چھتیس ممالک میں کرائے گئے اس وسیع سروے کے مطابق، دنیا کے بیشتر حصوں میں اسرائیل کے خلاف منفی جذبات میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ اسرائیل کے موجودہ وزیر اعظم نیتن یاہو پر عالمی عوام کا اعتماد تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
عالمی سروے کے اہم اور چونکا دینے والے حقائق:
نیتن یاہو پر عدم اعتماد: دنیا کے اکثریتی ممالک کے شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی پالیسیوں اور ان کے عالمی فیصلوں پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے۔ ان کی قیادت کو عالمی امن کے لیے ایک بڑا دھچکا مانا جا رہا ہے۔
امریکی عوام کی رائے میں بڑی تبدیلی: سب سے زیادہ حیران کن تبدیلی اسرائیل کے سب سے قریبی اتحادی ملک امریکہ میں دیکھی گئی ہے۔ سروے کے مطابق، امریکی شہریوں کے دلوں میں اسرائیلیوں کے تئیں ہمدردی اور مثبت سوچ میں تیزی سے کمی آئی ہے اور اب وہاں کا ایک بڑا طبقہ اسرائیل کی موجودہ پالیسیوں کو منفی نظر سے دیکھ رہا ہے۔
فلسطینیوں کے بارے میں عوامی رائے: جہاں ایک طرف اسرائیل کے گراف میں دنیا بھر میں گراوٹ آئی ہے، وہیں دوسری طرف فلسطینی عوام کے بارے میں دنیا بھر کے لوگوں کے جذبات اور ہمدردی میں کوئی بڑی کمی نہیں دیکھی گئی، بلکہ ان کے حالات کے تئیں عالمی برادری کی سوچ برقرار اور مستحکم ہے۔
چھتیس ممالک کا موقف: سروے میں شامل دنیا کے چھتیس بڑے ممالک کے عوام کی اکثریت نے اسرائیل کے موجودہ اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
رپورٹ کا نچوڑ:
یہ سروے رپورٹس واضح کرتی ہیں کہ حالیہ عالمی و علاقائی تنازعات اور جنگی صورتحال کی وجہ سے اسرائیل بین الاقوامی سطح پر تیزی سے عوامی ہمدردی کھو رہا ہے۔ یہاں تک کہ مغرب اور امریکہ کے اندر بھی اب اسرائیل کے اقدامات کے خلاف رائے عامہ ہموار ہو رہی ہے، جو آنے والے دنوں میں عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔