Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

رات کو کتنے بجے سونا صحت کے لیے بہتر ہے؟ 😴 ماہرین نے بتا دیا کتنے گھنٹے کی نیند ضروری ہے اور جلدی سونے کا آسان
صحت 🏥

رات کو کتنے بجے سونا چاہیے؟ 7 سے 9 گھنٹے کی نیند کے ساتھ جلدی سونے کے آسان طریقے

By Editor - Rahbar News
August 8, 2026 5 Min Read
0

نیند کا صحیح وقت صرف گھڑی دیکھنے سے طے نہیں ہوتا، مستقل معمول، جسم کی قدرتی گھڑی اور پرسکون ذہن بھی اچھی نیند کے لیے ضروری ہیں

اچھی صحت کے لیے صرف متوازن غذا اور ورزش کافی نہیں، بلکہ مناسب نیند بھی اتنی ہی اہم ہے۔ بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ رات کو کتنے بجے سونا چاہیے، کتنے گھنٹے سونا صحت کے لیے بہتر ہے اور اگر بستر پر جانے کے باوجود نیند نہ آئے تو جلدی کیسے سویا جائے۔

ماہرین صحت کے مطابق زیادہ تر صحت مند بالغ افراد کو رات میں تقریباً سات سے نو گھنٹے کی نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم صرف نیند کے گھنٹوں کی تعداد ہی اہم نہیں، بلکہ روزانہ تقریباً ایک ہی وقت پر سونا اور جاگنا بھی جسم کی قدرتی گھڑی کو بہتر رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

بالغ افراد کو کتنے گھنٹے سونا چاہیے؟

نیند کی ضرورت عمر کے حساب سے مختلف ہوتی ہے۔ عام طور پر بالغ افراد کے لیے سات سے نو گھنٹے کی نیند مناسب سمجھی جاتی ہے۔

اٹھارہ سے چونسٹھ سال کی عمر کے بالغ افراد کو عموماً سات سے نو گھنٹے سونا چاہیے، جبکہ پینسٹھ سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے تقریباً سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند مناسب ہوسکتی ہے۔

نوجوانوں کو اس سے زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے اور انہیں عموماً آٹھ سے دس گھنٹے سونا چاہیے۔ بچوں کے لیے عمر کے لحاظ سے نیند کی ضرورت مزید مختلف ہوتی ہے۔

اگر کوئی شخص مسلسل کم نیند لے رہا ہو تو دن کے وقت تھکن، توجہ میں کمی، چڑچڑاپن اور کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے۔

رات کو سونے کا بہترین وقت کیا ہے؟

سونے کا کوئی ایک وقت ہر شخص کے لیے یکساں طور پر بہترین نہیں ہوتا۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ آپ اپنے سونے اور جاگنے کا وقت زیادہ سے زیادہ مستقل رکھیں۔

مثلاً اگر آپ کو صبح چھ بجے اٹھنا ہے تو رات تقریباً ساڑھے دس بجے بستر پر جانا سات سے آٹھ گھنٹے کی نیند حاصل کرنے کے لیے مناسب ہوسکتا ہے۔ تاہم نیند آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، اس لیے سونے کے وقت کو اپنی ضرورت کے مطابق ایڈجسٹ کرنا چاہیے۔

ہفتے کے آخر میں بھی سونے اور جاگنے کے اوقات میں بہت زیادہ تبدیلی نہ کرنا بہتر ہے۔ مسلسل معمول جسم کی قدرتی نیند کی گھڑی کو منظم رکھنے میں مدد کرسکتا ہے۔

کیا نیند نوے منٹ کے چکروں میں ہوتی ہے؟

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ ہر شخص کو صرف نوے منٹ کے نیند کے چکروں کے حساب سے سونا چاہیے۔ حقیقت میں نیند کے چکر ہر شخص اور ہر رات ایک جیسے نہیں ہوتے اور ان کا دورانیہ بھی بدل سکتا ہے۔

اس لیے صرف یہ حساب لگانا کہ پانچ چکر یعنی ساڑھے سات گھنٹے یا چھ چکر یعنی نو گھنٹے سونا ہی ضروری ہے، درست طریقہ نہیں۔ بہتر ہے کہ اپنی عمر اور جسمانی ضرورت کے مطابق مجموعی طور پر سات سے نو گھنٹے کی نیند حاصل کرنے اور مستقل معمول برقرار رکھنے پر توجہ دی جائے۔

جلدی نیند لانے کے لیے چار اہم طریقے

اگر بستر پر جانے کے بعد ذہن مسلسل سوچتا رہے یا جسم میں تناؤ محسوس ہو تو چند آسان تکنیکیں نیند کے لیے ذہن اور جسم کو پرسکون کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

چار، سات، آٹھ سانس لینے کی تکنیک

اس طریقے میں ناک سے تقریباً چار سیکنڈ تک آہستہ سانس لیں، پھر سات سیکنڈ تک سانس روکیں اور اس کے بعد منہ سے تقریباً آٹھ سیکنڈ میں آہستہ سانس خارج کریں۔

اس عمل کو چند مرتبہ دہرانے سے بعض افراد کو ذہنی تناؤ کم کرنے اور جسم کو آرام کی حالت میں لانے میں مدد مل سکتی ہے۔ اگر سانس روکنے میں تکلیف ہو تو اسے زبردستی نہ کریں۔

پٹھوں کو باری باری ڈھیلا کریں

اگر جسم میں تھکن یا کھچاؤ ہو تو پٹھوں کو ایک ایک کرکے آرام دینے کی تکنیک آزمائی جاسکتی ہے۔ پہلے پاؤں کے پٹھوں کو چند سیکنڈ کے لیے ہلکا سا سکیڑیں، پھر انہیں مکمل طور پر ڈھیلا چھوڑ دیں۔

اسی طرح پنڈلیوں، رانوں، پیٹ، ہاتھوں، کندھوں اور چہرے کے پٹھوں کو باری باری ڈھیلا کیا جاسکتا ہے۔ اس سے جسمانی تناؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

سونے سے پہلے موبائل سے فاصلہ رکھیں

رات کو بستر پر لیٹ کر مسلسل موبائل فون چلانا نیند کے معمول کو متاثر کرسکتا ہے۔ کوشش کریں کہ سونے سے کم از کم تیس سے ساٹھ منٹ پہلے موبائل، ٹیبلٹ اور ٹی وی کا استعمال کم یا بند کردیں۔

اس وقت کو ہلکی کتاب پڑھنے، پرسکون موسیقی سننے یا آرام کرنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

کمرہ پرسکون اور ٹھنڈا رکھیں

بہت زیادہ گرم کمرہ نیند میں خلل ڈال سکتا ہے۔ آرام دہ، نسبتاً ٹھنڈا اور پرسکون ماحول نیند کے لیے زیادہ سازگار ہوسکتا ہے۔ روشنی بھی کم رکھیں تاکہ جسم کو سونے کا وقت سمجھنے میں آسانی ہو۔

بیس منٹ بعد بھی نیند نہ آئے تو کیا کریں؟

اگر بستر پر جانے کے بعد کافی دیر تک نیند نہ آئے تو مسلسل کروٹیں بدلنے کے بجائے کچھ دیر بستر سے اٹھ جانا بہتر ہوسکتا ہے۔

ہلکی روشنی میں کوئی پرسکون کتاب پڑھیں یا خاموشی سے بیٹھیں۔ جب دوبارہ نیند محسوس ہونے لگے تو بستر پر واپس آجائیں۔

اس دوران موبائل فون پر ویڈیوز دیکھنے یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس استعمال کرنے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے ذہن دوبارہ متحرک ہوسکتا ہے۔

اچھی نیند کے لیے دن کا معمول بھی اہم ہے

صرف رات کا معمول بہتر کرنا کافی نہیں۔ دن میں جسمانی سرگرمی، مناسب روشنی میں وقت گزارنا، باقاعدہ کھانے کا معمول اور ذہنی دباؤ کو کم کرنا بھی نیند پر اثر ڈال سکتا ہے۔

اگر ممکن ہو تو روزانہ چہل قدمی یا ہلکی ورزش کریں، لیکن سونے سے بالکل پہلے بہت سخت ورزش کرنے سے گریز کریں۔

اسی طرح شام کے بعد چائے، کافی اور دیگر کیفین والی اشیا کا زیادہ استعمال بعض افراد میں نیند آنے میں تاخیر کرسکتا ہے۔

کب ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے؟

اگر کئی ہفتوں تک مسلسل نیند آنے میں دشواری ہو، رات میں بار بار آنکھ کھلے، دن بھر شدید غنودگی رہے یا نیند کے باوجود تازگی محسوس نہ ہو تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ایسی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بہتر ہے، کیونکہ بعض اوقات بے خوابی، ذہنی دباؤ، ادویات، سانس سے متعلق مسائل یا دیگر طبی وجوہات نیند کو متاثر کرسکتی ہیں۔

خلاصہ

صحت مند بالغ افراد کے لیے عام طور پر سات سے نو گھنٹے کی نیند مناسب سمجھی جاتی ہے، لیکن ہر شخص کی ضرورت کچھ مختلف ہوسکتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ سونے اور جاگنے کا وقت زیادہ سے زیادہ مستقل رکھا جائے۔

اگر جلدی نیند نہیں آتی تو گہری سانسیں، پٹھوں کو آرام دینا، سونے سے پہلے موبائل سے دور رہنا، پرسکون ماحول بنانا اور ضرورت پڑنے پر کچھ دیر بستر سے اٹھ جانا مددگار ہوسکتا ہے۔

اچھی نیند کسی ایک رات کی کوشش سے نہیں بلکہ روزانہ کے مستقل اور صحت مند معمول سے حاصل ہوتی ہے۔

📲 واٹس ایپ چینل کھولیں

🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔

Share This Article
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
ٹی جی پی ایس سی فاریسٹ بیٹ آفیسر بھرتی 2026
Previous

تلنگانہ میں فاریسٹ بیٹ آفیسر کی 1393 آسامیوں پر بھرتی، انٹرمیڈیٹ پاس نوجوانوں کے لیے بڑا موقع

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.