صحت کا بڑا راز: کس وقت پانی پینا جسم کے لیے امرت ہے اور کب زہر؟ ماہرِ صحت نے بتائے پانی پینے کے حیران کن اصول
عام طور پر لوگ یہ تو دھیان رکھتے ہیں کہ دن بھر میں کتنا پانی پینا چاہیے، لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ پانی کس وقت پینا جسم کے لیے فائدہ مند ہے اور کس وقت نقصان دہ۔ ماہرین کے مطابق، صرف پانی کی مقدار ہی نہیں بلکہ اسے پینے کا وقت بھی ہماری صحت پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔ آیورویدک ماہرِ صحت نے روزمرہ کی زندگی میں پانی پینے کے کچھ ایسے سنہری اصول بتائے ہیں جو آپ کو کئی بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
پانی پینے کے اہم اور حیران کن اصول:
صبح کی شروعات گرم پانی سے کریں: ماہرِ صحت کے مطابق، صبح اٹھتے ہی سب سے پہلے تقریباً ایک گلاس ہلکا گرم پانی پینا چاہیے۔ صبح سویرے ٹھنڈا پانی پینے سے ہاضمے کی صلاحیت کمزور ہو جاتی ہے۔ اگر آپ چاہیں تو اس گرم پانی میں تھوڑی سی ادرک، سیندھا نمک اور ایک چٹکی دارچینی بھی ملا سکتے ہیں، جو جسم کے میٹابولزم کو تیز کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔
نہانے سے پہلے ایک گلاس پانی: نہانے کے لیے غسل خانے میں جانے سے پہلے ایک گلاس پانی پینا انتہائی مفید ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے جسم میں خون کی گردش (بلڈ سرکولیشن) بہتر ہوتی ہے اور نہاتے وقت اچانک چکر آنے یا بے ہوش ہونے کا خطرہ ختم ہو جاتا ہے۔
کھانے کے دوران پانی پینے سے پرہیز: اکثر لوگ کھانا کھاتے ہوئے بار بار پانی پیتے ہیں، جو کہ صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔ ماہرِ صحت کے مطابق، کھانا کھانے سے آدھا گھنٹہ پہلے ایک گلاس پانی پی لیں، اور کھانا کھانے کے پورے ایک گھنٹے بعد دوسرا گلاس پیئیں۔ کھانے کے بیچ میں پانی پینے سے ہاضمے کے خامرے (انزائمز) پتلے ہو جاتے ہیں، جس سے پیٹ پھولنے اور گیس کی شکایت ہو جاتی ہے۔
پانی کو گھونٹ گھونٹ کر کے پیئیں: ایک ہی بار میں پورا گلاس گٹ گٹ کر کے پینے کے بجائے، پورے دن میں تھوڑا تھوڑا پانی گھونٹ گھونٹ کر کے پینا چاہیے۔ اس کے علاوہ، کوشش کریں کہ دن بھر کا زیادہ تر پانی (تقریباً ڈیڑھ لیٹر) شام چار بجے سے پہلے ختم کر لیں، اور شام ڈھلنے تک مزید آدھا لیٹر پی لیں۔ سورج ڈوبنے کے بعد صرف پیاس لگنے پر ہی چھوٹے چھوٹے گھونٹ پیئیں۔
سونے سے پہلے کی احتیاط: رات کو بستر پر جانے سے پہلے بہت زیادہ پانی نہیں پینا چاہیے۔ سوتے وقت صرف آدھا گلاس یا چند گھونٹ پانی پینا ہی صحت کے لیے کافی اور مناسب مانا جاتا ہے۔