دہلی فسادات: سابق عام آدمی پارٹی رہنما طاہر حسین انٹیلی جنس بیورو اہلکار انکت شرما قتل کیس میں مجرم قراردہلی کی عدالت کا بڑا فیصلہ، قتل سمیت متعدد دفعات میں سزا کا حکم، چند ملزمان بری بھی ہوئے
نئی دہلی: دہلی کی ایک عدالت نے فروری دو ہزار بیس کے شمال مشرقی دہلی فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو کے اہلکار انکت شرما کے قتل کے مقدمے میں سابق عام آدمی پارٹی کونسلر طاہر حسین اور چار دیگر ملزمان کو مجرم قرار دے دیا ہے۔ اسی مقدمے میں چھ ملزمان کو شواہد کی کمی کے باعث بری کر دیا گیا۔
عدالت نے طاہر حسین کو قتل، فساد، مہلک ہتھیاروں کے ساتھ ہنگامہ آرائی، مختلف طبقات کے درمیان دشمنی پھیلانے، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی اور غیر قانونی اجتماع سمیت متعدد الزامات میں قصوروار قرار دیا، تاہم مجرمانہ سازش کے الزام سے بری کر دیا گیا۔ سزا کا تفصیلی حکم بعد میں جاری کیا جائے گا۔
قتل کا مقدمہ کیسے بنا؟
پولیس کے مطابق پچیس فروری دو ہزار بیس کو شمال مشرقی دہلی میں فسادات کے دوران انٹیلی جنس بیورو کے اہلکار انکت شرما لاپتا ہو گئے تھے۔ اگلے روز ان کی لاش ایک نالے سے برآمد ہوئی۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں جسم پر متعدد گہرے زخموں کی نشاندہی کی گئی تھی۔
انکت شرما کے والد نے درج کرائی گئی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ حملہ آوروں نے طاہر حسین کی عمارت سے کارروائی کی، جس کے بعد پولیس نے انہیں مقدمے میں نامزد کیا۔
پولیس کا مؤقف
دہلی پولیس کا کہنا تھا کہ تفتیش کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن سے معلوم ہوا کہ فسادات کے دوران بعض افراد نے ایک عمارت کی چھت سے پتھراؤ اور پٹرول بم پھینکے۔ اسی بنیاد پر طاہر حسین کو اس مقدمے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ طاہر حسین پہلے ہی دو ہزار بیس دہلی فسادات سے متعلق دیگر مقدمات، جن میں غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق قانون اور منی لانڈرنگ کا مقدمہ بھی شامل ہے، کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان پر الزام ثابت ہونا یا نہ ہونا ان مقدمات میں عدالتوں کے حتمی فیصلوں سے طے ہوگا۔