مسلمان بننے پر ریزرویشن ختم کرنے کے فیصلے کے خلاف تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی
تمل ناڈو کی حکومت نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کوئی شخص ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام قبول کرتا ہے تو اسے ملنے والے ریزرویشن کے فائدے ختم ہو جائیں گے。
کیا ہے پورا معاملہ؟
مدراس ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں تمل ناڈو حکومت کے اس حکم کو منسوخ کر دیا تھا، جس کے تحت ہندو مذہب کے پسماندہ طبقات سے مسلم بننے والے افراد کو پسماندہ مسلم کوٹے کا سرٹیفکیٹ دیا جا رہا تھا。 ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ اسلام قبول کرتے ہی انسان کی پرانی ہندو ذات ختم ہو جاتی ہے، اس لیے وہ پسماندہ طبقے کے کوٹے کا دعویٰ نہیں کر سکتا。
حکومت سپریم کورٹ کیوں گئی؟
وزیر اعلیٰ وجۓ کی قیادت والی حکومت کا ماننا ہے کہ صرف مذہب تبدیل کرنے سے کسی شخص کی سماجی اور معاشی پسماندگی دور نہیں ہو جاتی。 حکومت کا کہنا ہے کہ پسماندہ، انتہائی پسماندہ اور دلت برادریوں سے مسلمان بننے والے لوگوں کو کوٹے کا فائدہ ملتے رہنا چاہیے。 اسی لیے حکومت نے اب سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے تاکہ اسلام قبول کرنے والے ان شہریوں کے ریزرویشن کا تحفظ کیا جا سکے۔ اب سپریم کورٹ اس بات کا حتمی فیصلہ کرے گی کہ آیا مذہب بدلنے سے سرکاری نوکریوں اور تعلیم میں ملنے والا کوٹہ ختم ہونا چاہیے یا نہیں۔