سونم وانگچک کون ہیں؟ جانئے انجینئر سے سماجی کارکن بننے تک کا حیران کن سفر
نئی دہلی: گزشتہ کئی دنوں سے امتحانی نظام میں اصلاحات اور مبینہ پیپر لیک معاملے پر احتجاج کرنے والے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک ایک بار پھر خبروں میں ہیں۔ وہ تقریباً 20 روز سے نئی دہلی کے جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کر رہے تھے، جہاں ہفتے کی صبح دہلی پولیس انہیں طبی معائنے کے لیے اسپتال لے گئی۔
سونم وانگچک صرف ایک سماجی کارکن ہی نہیں بلکہ انجینئر، ماہر تعلیم، ماحولیات کے محافظ اور کئی اختراعات کے موجد بھی ہیں۔ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران انہوں نے لداخ کے عوام، تعلیم اور ماحولیات کے لیے مسلسل آواز بلند کی ہے۔
ابتدائی زندگی
سونم وانگچک 1966 میں لداخ کے علاقے اولے ٹوکپو میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سونم وانگیال معروف سیاست دان تھے اور جموں و کشمیر حکومت میں وزیر بھی رہ چکے تھے۔ وانگچک نے ابتدائی تعلیم اپنی والدہ سے گھر پر حاصل کی کیونکہ ان کے گاؤں میں اسکول موجود نہیں تھا۔ بعد ازاں انہوں نے سری نگر اور نئی دہلی میں تعلیم مکمل کی اور این آئی ٹی سری نگر سے مکینیکل انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔
تعلیم میں اصلاحات کا سفر
انہوں نےسیمول (لداخ طلبہ کی تعلیمی اور ثقافتی تحریک) کی بنیاد رکھی، جس کا مقصد لداخ کے تعلیمی نظام کو بہتر بنانا تھا۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں مقامی نصاب میں اصلاحات ہوئیں، انگریزی تعلیم کو فروغ ملا اور لداخ کے اسکولوں میں دسویں جماعت کا کامیابی کا تناسب نمایاں طور پر بڑھ گیا۔
دلائی لامہ نے بھی ان کے تعلیمی منصوبوں کی مالی معاونت کی، جبکہ بعد میں انہیں مرکزی وزارت تعلیم کی مختلف کمیٹیوں میں بھی شامل کیا گیا۔
ماحولیات کے لیے خدمات
لداخ میں پانی کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سونم وانگچک نے دنیا بھر میں مشہور آئس اسٹوپا منصوبہ متعارف کرایا، جس کے ذریعے سردیوں میں برف ذخیرہ کر کے گرمیوں میں پانی فراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے شمسی توانائی، پائیدار زراعت اور ماحول دوست ٹیکنالوجی پر بھی کئی منصوبے تیار کیے۔ سال 2018 میں انہیں سماجی خدمات اور تعلیمی اصلاحات پر ریمن میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا، جسے ایشیا کا نوبیل انعام بھی کہا جاتا ہے۔
لداخ کے حقوق کے لیے جدوجہد
جموں و کشمیر کی آئینی تبدیلیوں کے بعد وانگچک نے ابتدا میں لداخ کو الگ یونین ٹیریٹری بنانے کا خیر مقدم کیا، لیکن بعد میں انہوں نے لداخ کو آئین کی چھٹی شیڈول کے تحت خصوصی آئینی تحفظ دینے کا مطالبہ شروع کیا۔
اسی مقصد کے لیے انہوں نے کئی مرتبہ طویل بھوک ہڑتالیں کیں اور دہلی تک احتجاجی مارچ بھی نکالا۔ ان کا کہنا ہے کہ لداخ کی ثقافت، ماحول اور قدرتی وسائل کے تحفظ کے لیے آئینی ضمانت ضروری ہے۔
موجودہ احتجاج
حالیہ دنوں میں سونم وانگچک نے امتحانی نظام میں اصلاحات، مبینہ پیپر لیک کے معاملات اور جوابدہی کے مطالبے پر جاری احتجاج میں بھی حصہ لیا۔ طویل بھوک ہڑتال کے باعث طبیعت بگڑنے پر پولیس انہیں اسپتال منتقل کر چکی ہے۔
عدم تشدد پر یقین
سونم وانگچک خود کو مہاتما گاندھی کے فلسفۂ عدم تشدد کا پیروکار قرار دیتے ہیں۔ وہ اکثر اپنے مطالبات منوانے کے لیے بھوک ہڑتال، پرامن مارچ اور عوامی بیداری کی مہمات کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔