تلنگانہ میں اسکول اور کالج بند رکھنے کا اعلان: تائید میں طلبہ تنظیموں کا ریاست گیر تعلیمی بند، جانیں کیا ہیں مطالبات
حیدرآباد ڈیسک: تلنگانہ ریاست میں اسکولوں اور کالجوں کے طلبہ اور سرپرستوں کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے جہاں بائیں بازو کی سات بڑی طلبہ تنظیموں نے ریاست گیر تعلیمی بند کی اپیل کی ہے۔ اس احتجاج کے باعث ریاست بھر کے تعلیمی اداروں میں معمولات زندگی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اور کئی نجی و کارپوریٹ اسکولوں نے بچوں کی حفاظت کے پیشِ نظر پہلے ہی تعطیل کا اعلان کر دیا ہے۔ مسلسل چلی آ رہی اس بند کی کال کے باعث بہت سے طلبہ کو ہفتہ وار چھٹیوں سمیت تین دنوں کی مسلسل چھٹیاں ملنے کی امید ہے۔
طلبہ تنظیموں کے بڑے مطالبات اور اعتراضات:
مظاہرہ کرنے والی طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج حکومت کی چند تعلیمی پالیسیوں اور بنیادی سہولیات کی کمی کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ احتجاج کی بڑی وجوہات درج ذیل ہیں:
اسکولوں کو ضم کرنے کی مخالفت: طلبہ رہنماؤں کا سب سے بڑا اعتراض حکومت کے اس منصوبے پر ہے جس کے تحت ہزاروں سرکاری اسکولوں کو ختم کر کے انہیں چند بڑے کیمپسز میں ضم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ تنظیموں کا الزام ہے کہ اس فیصلے سے دیہی اور دور دراز علاقوں کے غریب بچوں کے لیے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
اسکالرشپ اور فیس کی عدم ادائیگی: طلبہ برادری کا مطالبہ ہے کہ کروڑوں روپے کے زیر التوا اسکالرشپ اور فیس کی واپسی کے فنڈز فوری جاری کیے جائیں۔ فنڈز کی کمی کی وجہ سے نجی کالج مبینہ طور پر طلبہ کی ڈگریاں روک رہے ہیں۔
اساتذہ کی کمی اور خالی عہدے: تعلیمی اداروں میں اساتذہ، لکچررز اور اعلیٰ تعلیمی افسران کے ہزاروں خالی عہدوں کو فوری پُر کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ہاسٹلز کو کرائے کی خستہ حال عمارتوں سے نکال کر مستقل سرکاری عمارتوں میں منتقل کرنے پر زور دیا جا رہا ہے۔
نجی اسکولوں کی من مانی فیسیں: کارپوریٹ اور نجی اسکولوں کی طرف سے فیسوں میں بے تحاشہ اضافے اور والدین کو اسکول سے ہی مہنگی کتابیں اور یوٹیفارم خریدنے پر مجبور کرنے کے خلاف سخت قانون بنانے کی مانگ کی گئی ہے۔
سرپرستوں کے لیے ضروری مشورہ:
اگرچہ حکومت کی طرف سے باقاعدہ طور پر کسی عام تعطیل کا اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن مقامی حالات اور نجی اسکولوں کے اپنے فیصلوں کی وجہ سے بہت سے مقامات پر تعلیمی ادارے بند ہیں۔