ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتقامی بیان پر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہولناک دھمکی، ایک ہزار میزائل حملے کے لیے تیار,ایران اور امریکہ کے بیچ بڑی جنگ کا خطرہ
مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی کے درمیان امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر ہولناک جنگی ماحول پیدا ہو گیا ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد اور سابق سربراہ کی ہلاک ت کا بدلہ لینے کا باقاعدہ اعلان کیا ہے، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتہائی سخت اور تباہ کن جوابی دھمکی دی ہے۔ امریکی صدر نے صاف لفظوں میں انتباہ دیا ہے کہ اگر ایران نے کسی بھی قسم کی کارروائی یا قاتلانہ حملے کی کوشش کی، تو امریکہ کے ایک ہزار میزائل داغنے کے لیے بالکل تیار اور نشانہ لگائے بیٹھے ہیں۔
ایران کے نئے سپریم لیڈر کا انتقامی عہد
رپورٹ کے مطابق، ایرانی دارالحکومت تہران میں سرکاری جنازے کی رسومات کے دوران نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک تحریری پیغام جاری کیا۔ انہوں نے اپنے ملک کے ملاحوں اور عوام سے خطاب کرتے ہوئے عہد کیا کہ وہ اپنے شہید لیڈر اور اس جنگ کے تمام شہداء کے خون کا بدلہ ان مجرم اور رسوا کن قاتلوں سے ضرور لیں گے اور یہ انتقام ناگزیر ہے۔ واضح رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر چند ماہ قبل امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
ایرانی بیانات اور جنازے کے دوران آنے والی دھمکیوں پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک دھماکے دار پیغام جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج پوری طرح چوکس ہے اور اگر ایران نے امریکہ کے برسرِاقتدار صدر یا کسی بھی امریکی ہدف کو نقصان پہنچانے کی جرات کی، تو امریکی فوج کو پورا ایک سال تک ایران کے تمام علاقوں کو مکمل طور پر مٹانے اور تباہ کرنے کے احکامات پہلے ہی دیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے دو ٹوک لفظوں میں کہا کہ ایک ہزار خطرناک میزائل اس وقت مکمل طور پر لوڈڈ ہیں اور ان کا رخ ایران کی طرف ہے۔
بحری راستے پر بڑھتا ہوا ہائی پروفائل تنازع
اس فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ، دونوں ممالک کے درمیان عالمی تجارتی بحری راستے پر بھی شدید تنازع چل رہا ہے۔ امریکی انتظامیہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کی کھلی ضمانت دے اور ان پر حملے روکے، لیکن ایران نے اس ضمانت سے صاف انکار کر دیا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ پورا بحری راستہ اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور بیرونی طاقتوں کی مداخلت خطے میں جنگ کی آگ کو مزید بھڑکائے گی۔ حالیہ دنوں میں دونوں طرف سے ایک دوسرے کے ٹھکانوں اور بحری جہازوں پر میزائل حملے بھی کیے گئے ہیں، جس سے جنگ کا خطرہ مزید گہرا ہو گیا ہے۔