انٹرنیٹ پر مسلم خواتین کو بدنام کرنے کے منظم کھیل پر اقوامِ متحدہ کا الرٹ، تصویروں کا استعمال کرکے معصوم زندگییوں کو تباہ کرنے کی سازشیں
دنیا بھر میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی کمپیوٹر کی نئی خودکار ٹیکنالوجی کے بڑھتے قدم جہاں سہولتیں لا رہے ہیں، وہی اس کے انتہائی خطرناک اور ہولناک اثرات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ واشنگٹن کی ایک تحقیقی تنظیم اور اقوامِ متحدہ کی پہلی خودکار ٹیکنالوجی سائنسی کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انٹرنیٹ پر شرپسند عناصر اس نئی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کر کے خصوصاً اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والی باصلاحیت اور معروف خواتین کی پرانی تصاویر کو جدید سافٹ ویئر کے ذریعے تبدیل کر کے انہیں بدنام کرنے اور ہراساں کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس سنگین صورتحال پر اقوامِ متحدہ نے عالمی سطح پر الرٹ جاری کر دیا ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ کے چونکا دینے والے اعداد و شمار:
تحقیقی ادارے کی جانب سے مختلف بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر دستیاب ہزاروں خودکار طریقے سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شرپسندوں نے نجی تصاویر کو توڑ مروڑ کر من گھڑت ویڈیوز بنائیں اور انہیں سوشل میڈیا پر وائرل کیا، جن پر کروڑوں کی تعداد میں لوگوں نے تبصرے کیے۔ اس غیراخلاقی مواد کے ذریعے انٹرنیٹ پر نفرت پھیلانے اور خواتین کی کردار کشی کرنے کی منظم کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ممبئی اور دہلی کے ہیلپ لائن مراکز کے مطابق، انٹرنیٹ پر خواتین کو ڈیجیٹل طریقے سے ہراساں کرنے کے ایسے واقعات میں مسلسل اضافہ درج کیا جا رہا ہے، جہاں متاثرہ خواتین سماجی بدنامی اور شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہو رہی ہیں۔
عالمی سطح پر شدید تشویش اور قانون کی کمی:
جنیوا میں منعقد ہونے والے عالمی اجلاس سے قبل، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور سائنسی پینل نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے جھوٹا اور گمراہ کن مواد اتنے بڑے پیمانے پر تیار کیا جا رہا ہے جس سے معاشرتی امن اور باہمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت موجودہ قوانین اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے کیے جانے والے جرائم پر قابو پانے اور متاثرین کو فوری انصاف فراہم کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے مجرم بغیر کسی خوف کے نجی زندگیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
زمینی سچائی اور سماجی اثرات:
سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ آن لائن پروپیگنڈا معاشرے میں نفرت کو معمول بنانے کا کام کر رہا ہے۔ کئی متاثرہ خواتین نے خوف کے مارے اپنی سماجی سرگرمیاں محدود کر دی ہیں اور سوشل میڈیا پر اپنی موجودگی کم کر دی ہے۔ حقوقِ انسانی کے کارکنوں کا مطالبہ ہے کہ جہاں حکومتیں ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کے لیے بڑے سیمینار کر رہی ہیں، وہیں انہیں انٹرنیٹ پر خواتین کے تحفظ اور ایسے گھناؤنے جرائم کو روکنے کے لیے فوری طور پر سخت ترین ضوابط اور سیکیورٹی قوانین وضع کرنے چاہئیں۔ اس سنگین عالمی رپورٹ کی مزید تفصیلی بحث نیچے دی گئی ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے۔