سیکڑوں مدرسوں کا سرکاری بجٹ اور گرانٹ مکمل بند کرنےاتراکھنڈ کابینہ کا بڑا فیصلہ تعلیمی بورڈ کے تحت چلیں گے ادارے
اتراکھنڈ حکومت نے ریاست میں نافذ نئے اقلیتی تعلیمی نظام کے تحت ایک بڑا اور اہم فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی کابینہ نے ایک تجویز کو منظوری دے دی ہے جس کے تحت عربی مدرسوں کو ملنے والے سرکاری بجٹ اور گرانٹ کو مستقبل کے مالیاتی سال سے مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔ اس نئے نظام کے نفاذ کے بعد اب ریاست میں صرف وہی اقلیتی تعلیمی ادارے کام کر سکیں گے جنہیں صوبائی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی کی جانب سے باقاعدہ منظوری حاصل ہوگی۔
سرکاری نوکریوں اور اسناد کا بڑا مسئلہ
رپورٹ کے مطابق، حکومت نے اس تبدیلی کے پیچھے یہ دلیل دی ہے کہ اب تک مدرسوں کی جانب سے دی جانے والی روایتی اسناد (جیسے مولوی، عالم اور منشی وغیرہ) کو سرکاری طور پر تسلیم نہیں کیا جاتا تھا، جس کی وجہ سے یہاں پڑھنے والے طلباء سرکاری ملازمتوں کے لیے درخواست دینے کے اہل نہیں ہوتے تھے۔ اب حکومت نے تمام اقلیتی اداروں بشمول مدرسوں کو صوبائی تعلیمی بورڈ کے دائرہ اختیار میں شامل کر دیا ہے۔ نئے نظام کے تحت طلباء کو مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ بورڈ کے نصاب کے مطابق باقاعدہ جدید تعلیم بھی فراہم کی جائے گی، تاکہ مستقبل میں انہیں نوکریاں حاصل کرنے میں آسانی ہو۔
مدرسہ بورڈ کا خاتمہ اور نیا انتظام
سرکاری حکام کے مطابق، ریاست میں قائم پرانا مدرسہ بورڈ اب مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے اور اس کی جگہ نئی اقلیتی تعلیمی اتھارٹی نے کام شروع کر دیا ہے۔ اس وقت ریاست میں سیکڑوں کی تعداد میں ایسے مدارس سرگرم ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں طلباء زیرِ تعلیم ہیں۔ نئے قانون کے تحت، ابتدائی درجات (پہلی سے آٹھویں جماعت) تک کے مدارس کو منظوری اب ضلعی سطح کی تعلیمی کمیٹی یا حکومت کے نامزد کردہ مجاز حکام کی جانب سے دی جائے گی، جبکہ ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ (نویں سے بارہویں جماعت) تک کے مدارس کے لیے صوبائی اسکول تعلیمی کونسل سے الحاق حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
مستقبل کے تعلیمی منصوبے
حکومت کا کہنا ہے کہ اس نئے قانون کا مقصد اقلیتی برادری کے تعلیمی اداروں کو مرکزی دھارے سے جوڑنا اور وہاں کے تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔ یہ نیا انتظام اقلیتی بہبود کے محکمے کے تحت کام کرے گا اور تمام اداروں کو مرحلہ وار نئے قواعد و ضوابط کے دائرے میں لایا جائے گا۔ اس بڑے سرکاری فیصلے اور اس کے دور رس نتائج کی مزید تفصیلی رپورٹ نیچے دی گئی ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہے۔