مغربی بنگال میں سوشل میڈیا انفلوئنسرگرفتار، مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ پر نازیبا تبصرے اور سرحد پر باڑ کے معاملے پر ہنگامہ
مغربی بنگال کے ضلع مالدا میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ایک سوشل میڈیا مواد تخلیق کار خاتون کو گرفتار کر لیا ہے۔ الزام ہے کہ خاتون نے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں انہوں نے مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کے خلاف انتہائی نازیبا اور قابلِ اعتراض الفاظ استعمال کیے تھے۔ مقامی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں کی تحریری شکایت کے بعد پولیس نے فوری قدم اٹھاتے ہوئے ملزمہ کو حراست میں لے کر عدالتی کارروائی شروع کر دی ہے۔
بارڈر پر باڑ اور غیر قانونی دراندازی کا تنازع
رپورٹ کے مطابق، مالدا کے چانچل تھانہ علاقے کی رہنے والی ملزمہ موسو یاسمین سماجی اور سیاسی موضوعات پر باقاعدگی سے ویڈیوز بناتی ہیں۔ حالیہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب انہوں نے بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر غیر قانونی دراندازی کو روکنے کے لیے لگائی جانے والی خاردار تاروں (باڑ) کے موضوع پر ایک ویڈیو اپ لوڈ کی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو میں سرحد کے انتظام پر تبصرہ کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ داخلہ کو نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی۔
بی جے پی کا مظاہرہ اور بیرونی طاقتوں کا شک:
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد مقامی بی جے پی رہنماؤں نے تھانے میں تحریری شکایت درج کروائی، جس کے محض چند گھنٹوں کے اندر پولیس نے ملزمہ کو دبوچ لیا۔ گرفتاری کے بعد جب ملزمہ کو عدالت لے جایا جا رہا تھا، تو بی جے پی کارکنوں نے تھانے کے باہر جمع ہو کر سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ بی جے پی رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ یہ خاتون پہلے اچھے موضوعات پر ویڈیو بناتی تھیں لیکن اچانک انہوں نے ملک مخالف مواد بنانا شروع کر دیا۔ رہنماؤں نے پولیس سے یہ تفتیش کرنے کی بھی اپیل کی ہے کہ اس ویڈیو کے پیچھے کہیں کوئی ملک دشمن طاقتیں تو سرگرم نہیں ہیں۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کی تنقید
دوسری طرف، اس تیز رفتار گرفتاری پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ ایک معروف سماجی کارکن نے پولیس کی اتنی جلدی کارروائی پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت میں عوامی نمائندوں اور حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنا شہریوں کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ شکایت کے محض بارہ گھنٹوں کے اندر گرفتاری کرنا آزادیِ اظہارِ رائے کو دبانے اور اقتدار کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو خوف زدہ کرنے کی کوشش ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ معاملے کے تمام پہلوؤں اور ویڈیو بنانے کے اصل مقصد کی گہرائی سے تفتیش کر رہی ہے۔ اس ہائی پروفائل گرفتاری کی مزید تفصیلات نیچے دی گئی ویڈیو میں دیکھی جا سکتی ہیں۔