سیٹلائٹ تصاویر میں تشویشناک منظر، آسمان پر خطرناک طوفانی بادلوں کا پھیلاؤ، آئندہ چند روز میں شدید بارش کا امکان… جانیے تفصیلی رپورٹ۔
بھارت میں مانسون ایک بار پھر شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے اسرو کے موسمیاتی سیٹلائٹس سے حاصل ہونے والی تازہ تصاویر کے مطابق ملک کے تقریباً 70 فیصد حصے پر بارش لانے والے بادل چھا چکے ہیں، جبکہ کئی علاقوں میں ان کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق خلیج بنگال، اوڈیشہ اور مغربی بنگال کے اوپر موجود بادلوں کی بلندی 12 سے 16 کلومیٹر تک پہنچ گئی ہے، جو انتہائی طاقتور گرج چمک والے طوفانوں کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر میں بادلوں کے اوپری حصے کا درجہ حرارت منفی 60 سے منفی 80 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ کیا گیا، جو شدید بارش اور آندھی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسرو کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر میں سرخ اور جامنی رنگ کے حصے انتہائی شدید طوفانی بادلوں کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ نیلے رنگ والے حصے معمول سے درمیانی درجے کی مانسون بارش کی نمائندگی کرتے ہیں۔
ادھر ایک ہفتے کے وقفے کے بعد دہلی اور این سی آر میں بھی مانسون دوبارہ فعال ہو گیا ہے۔ محکمہ موسمیات نے ییلو الرٹ جاری کرتے ہوئے آئندہ 48 گھنٹوں کے دوران ہلکی سے درمیانی بارش، بعض مقامات پر موسلا دھار بارش، گرج چمک اور تیز ہواؤں کا امکان ظاہر کیا ہے۔
سیٹلائٹ کے واٹر ویپر چینل سے حاصل ہونے والی تصاویر میں شمالی اور وسطی بھارت پر نمی کی بڑی پٹی واضح دیکھی گئی ہے، جو مانسون کے نظام کو مزید طاقت فراہم کر رہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ فی الحال خشک ہوائیں اس نظام پر کوئی خاص اثر نہیں ڈال رہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ 4 سے 5 دن تک شمال مغربی اور شمال مشرقی بھارت میں مانسون سرگرم رہے گا، جبکہ اوڈیشہ اور چھتیس گڑھ میں شدید سے انتہائی شدید بارش کا امکان ہے۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ موسمی انتباہات پر عمل کریں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔