سلمان خان کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑی راحت، متنازع فلم کے ٹیزر پر کارروائی کا حکم
سلمان خان کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے متنازع فلم “کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی” کے ٹیزر اور اس سے متعلق سوشل میڈیا پر موجود مواد پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے لنکس جلد ہٹائے جائیں گے، ورنہ متعلقہ پلیٹ فارمز کو خود کارروائی کا حکم دیا جائے گا۔
سلمان خان نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے کہا کہ فلم میں دکھایا گیا مرکزی کردار، اس کی شکل، لباس اور مخصوص بریسلٹ سب کچھ ان کی شخصیت سے ملتا جلتا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ فلم کے ذریعے نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے بلکہ انہیں جرائم کی دنیا سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جو سراسر غلط اور ہتک آمیز ہے۔
اداکار کے وکلا نے عدالت کو بتایا کہ سن انیس سو اٹھانوے کے کالا ہرن شکار کیس سے متعلق مقدمہ ابھی بھی مختلف عدالتوں میں زیرِ سماعت ہے۔ ایسے وقت میں اس موضوع پر فلم یا تشہیری مواد جاری کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہو سکتا ہے اور منصفانہ سماعت پر اثر ڈال سکتا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس جیوتی سنگھ نے فلم کے پروڈیوسر کے رویے پر ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی شخص کی برسوں کی کمائی ہوئی عزت کو اس طرح داؤ پر نہیں لگایا جا سکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر فلم ساز مقررہ وقت میں متنازع مواد نہیں ہٹاتے تو ایکس اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز کو اسے ہٹانے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔
دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹیزر میں کہیں بھی سلمان خان کا نام استعمال نہیں کیا گیا اور نہ ہی مصنوعی ذہانت یا ڈیپ فیک ٹیکنالوجی کا سہارا لیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صرف ایک فلمی ٹیزر ہے اور اسے کسی خاص شخصیت سے جوڑنا درست نہیں۔
تاہم سلمان خان کی قانونی ٹیم نے عدالت میں مؤقف دہرایا کہ فلم کے تمام اشارے واضح طور پر انہی کی طرف جاتے ہیں، اس لیے ان کی شخصیت کے حقوق اور ساکھ دونوں متاثر ہو رہے ہیں۔
سماعت کے اختتام پر عدالت نے سلمان خان کی جانب سے متنازع لنکس کی مکمل فہرست طلب کرتے ہوئے کہا کہ اس کی بنیاد پر ضروری احکامات جاری کیے جائیں گے۔ اس معاملے کی آئندہ سماعت میں مزید قانونی پیش رفت متوقع ہے۔
🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔