Skip to content
-
Rahbar News Rahbar News
Rahbar News Rahbar News
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
  • تفریح 🍿
  • صحت 🏥
  • روزگار و مواقع💼
  • کھیل 🏆
  • مذہبی 🕌
  • بین الاقوامی ✈️
  • قومی خبریں 🏛️
  • ہوم پیج
  • جرائم اور حادثات 🚨
  • سائنس اور ٹیکنالوجی 🚀
Close

Search

قومی خبریں 🏛️

الٰہ آباد ہائی کورٹ شادی شدہ بیٹی ظلم کیس: عدالت نے دی بڑی ہدایت

By Editor - Rahbar News
August 5, 2026 3 Min Read
0

الٰہ آباد ہائی کورٹ شادی شدہ بیٹی ظلم کیس: ظلم کی شکایت پر سمجھوتے کا مشورہ نہ دیں، عدالت کی اہم ہدایت

الٰہ آباد ہائی کورٹ شادی شدہ بیٹی ظلم کیس میں ایک اہم فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ عورت اپنے سسرال میں جہیز ہراسانی، گھریلو تشدد یا ظلم کی شکایت کرتی ہے تو اس کی بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ عدالت نے واضح کیا کہ والدین اور خاندان کے افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیٹی کی شکایت کو سنجیدگی سے سنیں اور اسے صرف صبر کرنے یا سمجھوتہ کرنے کا مشورہ نہ دیں۔

عدالت نے کہا کہ کئی مرتبہ گھریلو ظلم کا شکار خواتین کو اپنے ہی گھر والوں کی جانب سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ حالات کو برداشت کریں، شادی بچانے کی کوشش کریں یا وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن ایسا رویہ بعض اوقات ظلم کرنے والوں کے حوصلے بڑھا سکتا ہے اور متاثرہ خاتون کو مزید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے والدین کو دی اہم ہدایت

جسٹس راجیش سنگھ چوہان اور جسٹس عبدالحسیب کمار چودھری کی بنچ نے کہا کہ شادی شدہ بیٹی کی حفاظت، عزت اور فلاح و بہبود خاندان کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

عدالت نے اپنے مشاہدے میں کہا کہ جب کوئی بیٹی بار بار اپنے گھر والوں کو سسرال میں ہونے والی تکلیف، خوف، تذلیل یا ہراسانی کے بارے میں بتاتی ہے تو اس کی شکایت کو عام گھریلو اختلاف نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اسے مدد کی پکار کے طور پر دیکھنا چاہیے۔

عدالت کے مطابق خاندان کی اخلاقی اور سماجی ذمہ داری ہے کہ وہ بیٹی کی بات پر یقین کریں، اس کا ساتھ دیں اور اس کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کریں۔

سمجھوتے کے نام پر ظلم کو نظر انداز کرنا خطرناک

ہائی کورٹ نے کہا کہ اکثر جہیز ہراسانی کا شکار خواتین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنا گھر بچانے کے لیے سمجھوتہ کریں۔ عدالت نے کہا کہ ایسا مشورہ کئی مرتبہ غیر ارادی طور پر ظلم کرنے والوں کو مزید طاقت دے دیتا ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی خاتون کو مسلسل ذہنی یا جسمانی تشدد کا سامنا ہے تو اسے خاموش رہنے پر مجبور کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

جہیز قتل کیس میں عدالت کا فیصلہ

یہ معاملہ ایک جہیز قتل کیس سے متعلق تھا، جس میں ایک خاتون اور اس کی 15 ماہ کی بیٹی کی موت ہو گئی تھی۔

کیس کے مطابق خاتون نے کئی بار اپنے خاندان والوں کو سسرال کی جانب سے جہیز کے مطالبات اور ہراسانی کے بارے میں بتایا تھا۔ شادی کے وقت خاتون کے خاندان نے رقم دی تھی، لیکن بعد میں موٹر سائیکل اور مزید رقم کا مطالبہ کیا گیا۔

ٹرائل کورٹ نے شوہر، سسرال کے دیگر افراد کو بھارتی تعزیرات قانون کی دفعہ 304 بی کے تحت سزا سنائی تھی۔ بعد میں یہ معاملہ الٰہ آباد ہائی کورٹ پہنچا، جہاں عدالت نے شواہد کا جائزہ لینے کے بعد سزا برقرار رکھی۔

بروقت مدد کئی زندگیاں بچا سکتی ہے

عدالت نے کہا کہ قانونی کارروائی ضروری ہے، لیکن بروقت مداخلت اس سے بھی زیادہ اہم ہے کیونکہ وقت پر مدد ملنے سے کئی افسوسناک واقعات کو روکا جا سکتا ہے۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ بعد میں ہونے والی قانونی کارروائی یا افسوس کسی ایسی زندگی کو واپس نہیں لا سکتا جو پہلے ہی ختم ہو چکی ہو۔

عدالت نے معاشرے، خاندانوں اور رشتہ داروں پر زور دیا کہ وہ خواتین کی شکایات کو سنجیدگی سے لیں اور کسی بھی قسم کی گھریلو ہراسانی کو معمولی مسئلہ نہ سمجھیں۔

خواتین کے تحفظ کے لیے قانونی حقوق

بھارت میں خواتین کو گھریلو تشدد اور جہیز ہراسانی سے تحفظ دینے کے لیے کئی قوانین موجود ہیں۔

دفعہ 498 اے: شوہر یا سسرال والوں کی جانب سے ذہنی یا جسمانی ظلم کے خلاف قانونی کارروائی کی اجازت دیتی ہے۔

جہیز مخالف قانون: جہیز کا مطالبہ کرنا یا لین دین کرنا جرم قرار دیا گیا ہے۔

گھریلو تشدد سے تحفظ قانون: خواتین کو تشدد سے تحفظ، رہائش اور دیگر قانونی حقوق فراہم کرتا ہے۔

خلاصہ

الٰہ آباد ہائی کورٹ شادی شدہ بیٹی ظلم کیس میں عدالت کا پیغام واضح ہے کہ کسی بھی خاتون کی فریاد کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ صبر اور سمجھوتے کے نام پر ظلم برداشت کرنے کا مشورہ دینا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ ہر بیٹی کی آواز کو اہمیت دینا، اس کی حفاظت کرنا اور بروقت مدد فراہم کرنا خاندان اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں

تین سال کی عمر میں والدین کو کھویا، مخالفت برداشت کی، پھر کینسر ریسرچر بن کر اپنی پہچان حاصل کی؛ سوری کی متاثر کن کہانی
پانچ خواتین، پانچ گولڈ میڈل، ایک تاریخی دن؛ بھارتی باکسرز نے کامن ویلتھ گیمز میں رقم کی نئی تاریخ
رات 7 بجے کے بعد کھانا کیوں نہیں کھانا چاہیے؟ ماہرین نے جسم پر ہونے والے 7 بڑے نقصانات سے خبردار کر دی
📲 واٹس ایپ چینل کھولیں

🔒 کوئی اسپیم نہیں، صرف اہم اور مصدقہ خبریں۔

Share This Article
Author

Editor - Rahbar News

Follow Me
Other Articles
قرآن مجید کے ساتھ دعا کرتے ہوئے مسلمان، صبر اور اللہ پر بھروسے کی علامت
Previous

مسلمان مایوس نہ ہوں: موجودہ حالات، سیرتِ طیبہ ﷺ اور کامیابی کا راستہ

فلگونی نائر نائیکا کی بانی کامیابی کی کہانی
Next

پچاس سال کی عمر میں نوکری چھوڑ کر شروع کیا کاروبار، آج اربوں روپے کی کمپنی کی مالک ہیں فلگونی نائر

No Comment! Be the first one.

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Contact us @ editor.rahbarnews@gmail.com
  • editor.rahbarnews@gmail.com
Copyright 2026 — Rahbar News. All rights reserved.